نور پھیلا جو کائنات میں ہے رحمتِ مصطفیٰؐ کا سایا ہے- کلیات نعت

نور پھیلا جو کائنات میں ہے رحمتِ مصطفیٰؐ کا سایا ہے
یہ جو سورج دھلادھلاساہے آپؐکے در سے ہوکے آیا ہے

کہکشائیں نکھرنے لگتی ہیں جب ستارے سلام کہتے ہیں
وجد میں کائنات ہوتی ہے جب خدا خود درود پڑھتا ہے

موجِ خوشبو ہے لحن پھولوں کا اور بزمِ ثنا بہارِ چمن
سامعین آسماں سے اترے ہیں صبحدم یہ جو ابر چھایا ہے

آ کے رکھتا گہر ہے پلکوں پر اور بھرتا ہے نور آنکھوں میں
پھول رکھتا ہے میرے ہونٹوںپریہ جوبادِ صبا کاجھونکا ہے

رات چھائی ہے جو سکوںلیکر چشمِ مازاغ کی کرامت ہے
دن ہے نکلا جو نعمتیں لے کر،ذکرِ خیر الوریٰؐ کا صدقہ ہے
یہ جو اترا ہے پھر قلم سے مرے حرفِ توصیف نغمگی بن کر
پھر سے میری زبان پر جیسے آج شہدِ بہشت ٹپکا ہے

محوِ توصیف عالمِ حیواں، سارا جنگل درود پڑھتا ہے
ہر پرندے پہ ذکر طاری ہے، پتہ پتہ ثنا میں ڈوبا ہے

عالمِ حرف و نطق میں لیکن شامِ مکر و فریب اتری ہے
خونچکاں آبرو، دریدہ بدن، تیرگی نے جو ڈھانپ رکھا ہے

خون آشام قافلوں کی زمیں قتل انساں سے تھرتھراتی ہے
شامِ حوا لہو لہو ہر سو، کاروبارِ حیات پیسہ ہے

بزمِ توصیف میںجو آئے تھے، کاش ہم بھی شجر حجر ہوتے
جسکو کہتے ہیںحضرتِ انساں باغِ مدحت کا اک پرندہ ہے

نورِ حمد و ثنا سے مالک نے بزمِ ارض و سما سجائی ہے
حمد ہے شانِ بندگی اپنی، نعت ہی آبرو کا زینہ ہے

جلوۂِ حسن ان کی ہے توصیف، محورِ آبرو مدینہ ہے
انکی مدحت ہی شانِ آدم ہے ان کی مدحت ہی شانِ حوا ہے
خالقِ دو جہان کی تسبیح حسنِ ارض و سما کا پیمانہ
محوِ حمد و ثنا جو عالم ہے بے نیازِ گدازِ توبہ ہے

عالم انس و جن میں غفلت ہے، گمرہی، سرکشی، بغاوت ہے
نعت ہے حسنِ عالمِ انساں، حسنِ آدم سرورِ توبہ ہے

رات کو محویت کے عالم میں نعت پڑھتی ہیں جب عزیزؔآنکھیں
غم میں ڈوبا ہوا وجود اپنا شاخِ مدحت کا پھول ہوتا ہے

o