کمالِ ہجر ہے یادِ نبیؐ میں کھو جانا- کلیات نعت

کمالِ ہجر ہے یادِ نبیؐ میں کھو جانا
کمالِ وصل ہے اُن کی گلی میں کھو جانا

ہے ابتدائے ولائت، ولی میں کھو جانا
ہے انتہائے ولائت، علی میں کھو جانا

درِ رسولؐ پہ توبہ قبول ہوتی ہے
رضائے حق ہے وہیں بندگی میں کھو جانا

فریبِ رغبتِ لذّات وائے ناکامی
ہوائے نفس کی آلودگی میں کھو جانا

درِ حبیب سے نسبت، صفائے قلب و نظر
خمارِ شوق، خُمِ عاشقی میں کھو جانا
وفورِ غم سرِ مژگاں، زباں پہ حرفِ ثناء
درِ حبیبؐ پہ یوں حاضری میں کھو جانا

ثنائے خواجہ میں ہے خامشی ہی حدِ ثناء
ہے منتہائے ثناء خامشی میں کھو جانا

یہی ہے لطفِ شہادت، یہی حیاتِ دوام
جو اُنؐ کے نام ہے اُس زندگی میں کھو جانا

کرن کرن ہے مدینہ سجا مرے دل میں
بہشتِ دید ہے اِس روشنی میں کھو جانا

فریبِ نفس ہو یا حسنِ رنگ و بو کی لپک
نجات ہے مجھے شرمندگی میں کھو جانا

وہ صوتِ نُطقِ الٰہی، شفائے دہر عزیزؔ
سماعتوں کا یمِ نغمگی میں کھو جانا

o