رشتہ نہ پھر رہے کوئی سر کا وجود سے- کلیات نعت

رشتہ نہ پھر رہے کوئی سر کا وجود سے

وہ سانس جو لئے ہیں سلام و درود سے
آزاد ہیں زمان و مکاں کی حدود سے

محبوبِؐ کبریا کا جو میں ہوں فقیر در
کیا واسطہ مجھے کسی نام و نمود سے

یوں خوش سوئے نشور چلا جا رہا ہوں میں
لطف نبیؐ کی آس پہ، امید جود سے

جس دن کے بعد رات نہیں آئے گی کوئی
اس سے اماں ہے ہر شبِ بزمِ درود سے

دو نیم ہو کے جڑتا ہے آقاؐ کا جو غلام
رہتا ہے محوِ دید وہ چرخِ کبود سے
اک نور انت فیہ کا اترا ہے روح میں
سیراب ہو رہا ہوں مَیں تسنیمِ جود سے

جی بھر کے دیکھ لوں مَیں اگر حسن مصطفیٰ
مطلب نہ پھر رہے کوئی غیب و شہود سے

اک بندۂ حقیر تھا میں، معتبر ہوا
سرکارؐ ہر جہاں پہ سلام و درود سے

میرا یہی تعلقِ خاطر ہے اس کے ساتھ
حبِّ رسولؐ پائی ہے ربِ ودود سے

طے ہو چکی نبیؐ سے ملاقات تو مگر
کس طرح جا سکوں گا لرزتے وجود سے

سر ہو درِ حبیبؐ پہ رکھا ہوا عزیزؔ
رشتہ نہ پھر رہے کوئی سر کا وجود سے

*