پروانۂ مصطفیٰ ﷺ- کلیات نعت

اس کا رتبہ ورائے بیاں ہے، جو بھی پروانۂ مصطفی ہے
عشق والوں پہ لطف و عطا کا، ایک پیمانۂ مصطفی ہے

اُن کے عاشق کی دیوانگی کو، کون جانے کہ اصلِ خرد ہے
جو بھی دیوانۂ مصطفی ہے، وہ تو فرزانۂ مصطفی ہے

اِس کی گفتار میں عکسِ قرآں، اِس کے کردار میں نورِ عرفاں
اِس پہ ہے سایۂِ شاہِ جیلاں، جو بھی فرزانۂ مصطفی ہے

ایک گوشہ ہے غارِ حرا کا، دل جو ہے عاشق مصطفی کا
اِس پہ ہے سبز گنبد کا سایہ، یہ بھی کاشانۂ مصطفی ہے

ہنستا روتا ہو یا مضطرب ہو، رقص ہو، وجد ہو، بے کلی ہو
اُس کے ہونٹوں پہ صلِ علیٰ ہے جو بھی دیوانۂ مصطفی ہے

یاں پہ چلتی شرابِ صفا ہے، جس نے پی لی امر ہو گیا ہے
جام پر جام دیتا ہے ساقی، یہ تو میخانۂ مصطفی ہے

میں تونگر ہوں یا بے نوا ہوں، ذوقِ حرفِ ثنا کا گدا ہوں
اِس کا رنگِ سخا و کرم بھی رنگِ شاہانۂ مصطفی ہے

پوچھتے ہو مقامِ ولی کو، جان لو اتنا شانِ علی کو
پاؤں رکھنے کو کعبے کے اندر، مل گیا شانۂ مصطفی ہے

چھوڑ آئیں گے مجھ کو جہاں پر، اِک ملاقات طے ہے وہاں پر
کیا ادب ہوگا اُس حاضری کا، فکرِ دیوانۂ مصطفی ہے

دل میں کیا درد ہے کیا بتائے، کیا عزیزؔ اپنی بپتا سنائے
غم ہے پنہاں رضائے نبیؐ کا، لب پہ شکرانۂ مصطفی ہے

*