سَلَام عَلَیکَ - سلام علیک (2004)

قلم سر جھکائے ورق کی جبیں پر
سجائے دیے شب کو قَصْرِ یقیں پر
حکومت ہے اُس کی فلک پر زمیں پر
خدا آپؐ کا سب سے اعلیٰ و بالا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

وہی اپنے بندوں کا حاجت روا ہے
مصیبت کی گھڑیوں میں مشکل کشا ہے
وہ سب کا خدا ہے، وہ سب کا خدا ہے
وہی رزق تقسیم ہے کرنے والا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

وہی اپنے بندوں کا روزی رساں ہے
وہی اپنی مخلوق کے درمیاں ہے
ازل سے ابد تک وہی حکمراں ہے
اُسی کی ہے نصرت پہ کامل بھروسہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

خدا کی خدائی کا ڈنکا بجا ہے
اُسی کی بڑائی کا چرچا ہوا ہے
رسولوں نے پہلا سبق یہ دیا ہے
وہ خالق ہے، رازق ہے مالک ہے سب کا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

وہ صحرائے غم میں سہارا ہے سب کا
سبھی کچھ، سبھی کچھ، سبھی کچھ ہے رب کا
کروں کیا بیاں میں مقامِ ادب کا
خدا کی خدائی کے مالک ہو آقاؐ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

تصّور میں، سرکارؐ، در پر کھڑا ہوں
سمٹ کر نگاہوں میں بھی آگیا ہوں
حضورؐ، آپؐ کی نعت لکھنے لگا ہوں
عطا کیجئے کوئی حرفِ منزہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

متاعِ ہنر بھی سند مانگتی ہے
شعورِ زرِ نیک و بد مانگتی ہے
خدا سے ردائے ابد مانگتی ہے
پذیرائی کی، ہو عطا مجھ کو، مالا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

سلاموں کی ڈالی، درودوں کے گجرے
ہواؤں نے دستِ تمنا پہ رکھے
ہر اک لفظ میں دل غلاموں کے دھڑکے
ریاضؔ اپنے اشکوں سے لکھے قصیدہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

کریمٌ کریمٌ کریمٌ کریمٌ
رحیمٌ رحیمٌ رحیمٌ رحیمٌ
عظیمٌ عظیمٌ عظیمٌ عظیمٌ
سحابِ کرم آپؐ کا کُھل کے برسا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

کلیمٌ کلیمٌ کلیمٌ کلیمٌ
یتیمٌ یتیمٌ یتیمٌ یتیمٌ
حکیمٌ حکیمٌ حکیمٌ حکیمٌ
گلِ نو دمیدہ، گلِ نو دمیدہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

امینٌ امینٌ امینٌ امینٌ
مبینٌ مبینٌ مبینٌ مبینٌ
متینٌ متینٌ متینٌ متینٌ
شگفتہ، شگفتہ، شگفتہ، شگفتہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

منیرٌ منیرٌ منیرٌ منیرٌ
بشیرٌ بشیرٌ بشیرٌ بشیرٌ
نذیرٌ نذیرٌ نذیرٌ نذیرٌ
حضور آپؐ کا نام حرفِ تمنا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

منیبٌ منیبٌ منیبٌ منیبٌ
حبیبٌ حبیبٌ حبیبٌ حبیبٌ
خطیبٌ خطیبٌ خطیبٌ خطیبٌ
بھرے نورِ وحدت سے میرا بھی سینہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

خلیلٌ مطیعٌ عزیزٌ شہیدٌ
حریصٌ فیصحٌ شکورٌ رشیدٌ
لطیفٌ حلیمٌ حمیدٌ مجیدٌ
حضور آپؐ کے عہدِ روشن میں ہوتا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

حضور آپؐ رب کی عطا ہی عطا ہیں
کرم ہی کرم ہیں سخا ہی سخا ہیں
حضور آپؐ سر تا قدم اک دعا ہیں
ازل سے ابدتک غلاموں کے آقاؐ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

گراں تاجِ ختم نبوت ملا ہے
شفاعت کا بھی اذنِ ربی ہوا ہے
یہی نام عرشِ بریں پر لکھا ہے
حضور آپؐ ہیں سارے نبیوں کے دولھا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

حضور آپؐ کا نامِ نامی منّور
معطر، معطر، معنبر، معنبر
حضور آپؐ کا قرض ہے ہر بشر پر
کھڑی در پہ ہے امتِ بے وسیلہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

ازل سے ہتھیلی پہ ہے حرفِ مدحت
ازل سے ملا ہے یہ حسنِ بلاغت
ازل ہی سے حاصل ثنا کی ہے دولت
ورق پر کھلے، یا نبیؐ، حرفِ تازہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

کہے بر گھڑی چشمِ نم ’’یا محمد‘‘
کرے سجدہ ریزی قلم یا محمدؐ!
کرم یا محمدؐ! کرم یا محمدؐ!
کھچے چار جانب محبت کا ہالہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

قدم چومتے ہیں فلک کے ستارے
حضور آپؐ کے ہر کفِ پاک کے صدقے
اتر آئی ہے کہکشاں آسماں سے
سراجاً منیرا، سراجاً منیرا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

خزانے عطا کی امامت ابد تک
رسالت ابد تک، قیادت ابد تک
شریعت پہ مبنی ثقافت ابد تک
ہدف شب کا ہیں آپؐ کے نام لیوا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حضور آپؐ ہی انتہائے کرم ہیں
حضور آپؐ ہی تو ردائے کرم ہیں
کہ ہم سر بسر التجائے کرم ہیں
کرم کی کرم کی کرم کی ہو برکھا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

عطاؤں کا مینہ آپؐ برسا رہے ہیں
مقدر زمانوں کا چمکا رہے ہیں
دیا اُس کا تقسیم فرما رہے ہیں
مجھے مانگنے کا نہ آیا قرینہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

شہا! دستِ رحمت میں پتھر بھی بولیں
حضور آپؐ صدیوں کے عقدے بھی کھولیں
حضور آپؐ کو کن جواہر میں تولیں
حضور آپؐ حرفِ ستائش سے بالا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

صبا آپؐ کے نقشِ پا چومتی ہے
لبوں پر مچلتی دعا چومتی ہے
دھنک، چاندنی اور ہوا چومتی ہے
کہ جشنِ بوئے لالہ و گل ہے برپا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حضور آپؐ کونین کی آبرو ہیں
حضور آپؐ کونین کی آرزو ہیں
حضور آپؐ کونین کی جستجو ہیں
حضور آپؐ کونین کا ہیں نگینہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

حضور آپؐ ہی پیشوائے بشر ہیں
حضور آپؐ ہی انتہائے بشر ہیں
حضور آپؐ منتہائے بشر ہیں
فقط معتبر آپؐ کا ہے حوالہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حضور آپؐ معراجِ لوح و قلم ہیں
حضور آپؐ ہی تاجدارِ حرم ہیں
حضور آپؐ ہی تو امیرِ اُمم ہیں
حضور آپؐ کا ذکر ہوتا رہے گا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

حضور آپؐ مہمانِ عرش بریں ہیں
حضور آپؐ ہی نور دینِ مبیں ہیں
حضور آپؐ سرتاجِ برزم یقیں ہیں
کھڑا در پہ ہے آپؐ کا ایک منگتا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حضور آپؐ ہیں نور ارض و سما کے
حضور آپؐ مونس ہیں ہر بے نوا کے
حضور آپؐ سردار ہیں انبیاء کے
کبھی جگمگائے غلاموں کی کٹیا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

حضور آپؐ ہی ہیں حبیبِ مکرّم
حضور آپؐ ہی ہیں رسولِ معظم
ملا آپؐ کو شفاعت کا پرچم
کرم کی نظر کیجئے گا خدا را

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حضور آپؐ ہی تو وقارِ عجم ہیں
حریم رسالت کا جاہ و حشم ہیں
حضور آپؐ ہی سائبانِ کرمم ہیں
ہے گردابِ غم میں غلاموں کی نیا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

ردائے تحفظ خدا نے عطا کی
گھٹا سر پہ چھائی اُسی کی رضا کی
وضا جھوم اٹھی ہے ارض و سما کی
کہ میلاد پڑھتا ہے ہر اک صحیفہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

دیے آج خوشبو جلائے ہوئے ہے
صبا بھي دریچے سجائے ہوئے ہے
کہ رحمت بھی نور اپنا چھائے ہوئے ہے
مبارک حضور آپؐ کا سب کو آنا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

زمین پر شہ بحر و بر بن کے آئے
شبِ ناروائی سحر بن کے آئے
حضور آپؐ خیر البشرؐ بن کے آئے
کہ اولادِ آدم نہ کھائے گی دھوکہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حضور آپؐ آئے تو تقدیر بدلی
کتابِ حقائق کی تحریر بدلی
حروف ستائش کی تفسیر بدلی
حضورؐ انقلابِ یقیں پھر ہوا برپا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

حضور آپؐ محبوب ہیں کبریا کے
حضور آپؐ مظہر ہیں نورِ خدا کے
کہ ہیں حرفِ روشن کتابِ دعا کے
مچلتی ہے سینوں میں عرضِ تمنا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حضور آپؐ ہی مرکزِ انس و جاں ہیں
حضور آپؐ ہی حامیٔ بیکساں ہیں
حضور آپؐ ہی قائدِ مرسلاں ہیں
حضور آپؐ ہی حور و غلماں کے ماویٰ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

حضور آپؐ ہی ہر بشر کے ہیں ہادی
غلامانِ بے مال و زر کے ہیں ہادی
ہر اک ذرۂ خشک و تر کے ہیں ہادی
حضور آپؐ ہی حرفِ آخر دعا کا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حضور آپؐ عرشِ بریں کی ہیں زینت
حضور آپؐ فرشِ زمیں کی ہیں زینت
حضور آپؐ قلبِ حزیں کی ہیں زینت
حضور آپؐ کا ذکر ہے سب سے اونچا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

زمیں آپؐ کی، آسماں آپؐ کا ہے
تصور میں بھی آستاں آپؐ کا ہے
مری چشمِ تر میں زماں آپؐ کا ہے
میں لبیک لبیک کہتا رہوں گا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حضور آپؐ ہی نازشِ کل جہاں ہیں
حضور آپؐ ہی فجرِ کون و مکاں ہیں
حضور آپؐ آپ ہی رحمت بیکراں ہیں
ہے اسمِ گرامی بڑی شان والا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

حضور آپؐ ہی مخزنِ علم و حکمت
حضور آپؐ ہی انتخابِ مشیت
حضور آپؐ ہی ساقی آبِ وحدت
کھڑا آپؐ کے در پہ ہے ایک پیاسا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حضور آپؐ ہی سربراہِ رسولاں
حضور آپؐ ہی مہرِ صبح درخشان
حضور آپؐ کا ذکر خوشبو بداماں
حضورؐ آّ پھر جام ہونٹوں کا چھلکا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

حضور آپؐ ہی مصطفی مجتبیٰ ہیں
حضور آپؐ ہی جانِ ارض و سما ہیں
حضور آپؐ ہی خاتم الانبیاء ہیں
حضور آپؐ ہی تابشِ شہر بطحا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حضور آپؐ ہی سید المرسلین ہیں
حضور آپؐ ہی شہرِ دل کے مکیں ہیں
حضور آپؐ ہی خلق میں بہتریں ہیں
حضور آپؐ ہی ہم عزیبوں کے ملجا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

حضور آپؐ ہی وجہِ تخلیقِ آدم
حضور آپؐ ہی زینتِ بزم عالم
حضور آپؐ ہی بیکسوں کے ہیں ہمدم
نقوشِ کفِ پا کا ہم پر بھی سایہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حضور آپؐ رعنائیوں کے ہیں پیکر
حضور آپؐ ہر علم و فن کے ہیں مظہر
حضور آپؐ اُمّی لقب ہیں پیمبرؐ
علومِ جہاں در پہ ہیں دست بستہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

حضور آپؐ کا ہر قدم سر خوشی ہے
حضور آپؐ کا ہر نفس زندگی ہے
حضور آپؐ کا ہر عمل روشنی ہے
حضور آپؐ پر ہے درودوں کی چھایا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حضور آپؐ کون و مکاں کی ہیں رونق
حضور آپؐ ہر داستاں کی ہیں رونق
حضور آپؐ ہی ہر زماں کی ہیں رونق
ازل کے بھی والی ادب کے بھی مولا!

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

حضور آپؐ ہر خیر کی ابتدا ہیں
حضور آپؐ ہر حسن کی انتہا ہیں
حضور آپؐ ہر روشنی کی بقا ہیں
حضور آپؐ ہر لا دوا کے مسیحا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حضور آپؐ صدق و صفا کے ہیں پیکر
حضور آپؐ جودو سخا کے ہیں پیکر
حضور آپؐ فقر و غنا کے ہیں پیکر
حضور آپؐ سرتا قدم لطف فرما

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

امین اور صادق لقب آپؐ کا ہے
منور، مقدس نسب آپؐ کا ہے
کہ فرض احترام و ادب آپؐ کا ہے
خدا سے ادب کا قرینہ ہے مانگا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

غلامی کا پرچم ہے ایمانِ کامل
ہے نقشِ کف پا میں عرفانِ کامل
حضور آپؐ ہی تو ہیں انسانِ کامل
کرے انتہا عظمتوں کی بھی سجدہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

امیر امم آپؐ ہی یا نبیؐ ہیں
چراغِ حرم آپؐ ہی یا نبیؐ ہیں
بہار عجم آپ ہی یا نبیؐ ہیں
حضور آپؐ یٰسیں، حضور آپؐ طہٰ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

ازل سے نبیؐ آپؐ ہی یا نبیؐ ہیں
کہ ہر آگہی آپؐ ہی یا نبیؐ ہیں
کہ ہر روشنی آپؐ ہی یا نبی ہیں
کرے ہر بلندی کفِ پاک کو سجدہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

زمینوں کی ہیں آسمانوں کی رحمت
حضور آپؐ ہیں کل جہانوں کی رحمت
ازل سے ابد تک زمانوں کی رحمت
حضور آپؐ ہیں حکمتوں کا خزینہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حضور آپؐ ہی سرورِ سروراں ہیں
حضور آپؐ ہی دلبر دلبراں ہیں
حضور آپؐ ہی مقبل مقبلاں ہیں
حضور آپؐ ہی علم و فن کے ہیں ماوا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

نصابِ عمل جو مرتب کیا ہے
شعورِ ازل آدمی کو دیا ہے
حصارِ اماں میں اسے لے لیا ہے
عطا کیجئے گا اسے چشمِ بینا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

گرفتِ شبِ ناروا سے بچا کر
یتیموں کو اپنے گے سے لگا کر
غلاموں کو آقاؐ کا ہمسر بنا کر
حضور آپؐ نے منظرِ شب ہے بدلا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

اخوت کے موتی لٹاتے رہے ہیں
صداقت کے سورج اگاتے رہے ہیں
چراغِ دیانت جلاتے رہے ہیں
محبت فقط آپؐ کا ہے عطیہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

فضائل کی بارات اتری ہوئی ہے
خصائل کی شبنم بھی بکھری ہوئی ہے
شمائل کی خوشبو بھی مہکی ہوئی ہے
خصائص میں ہیں آپؐ یکتا و تنہا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

نہیں آپؐ کا کوئی ثانی نبی جیؐ!
کریں آج بھی مہربانی نبی جیؐ!
قلم کو عطا ہو روانی نبی جیؐ!
ہے میری لغت کا ہر اک لفظ تشنہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

زیاں کا بھی احساس جاتا رہا ہے
چراغِ صداقت سرِ شب بجھا ہے
تفکر کا سورج کہاں چھپ گیا ہے
ہوا بند قصر و فا کا دریچہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

مسائل میں کب سے پریشاں ہیں آنکھیں
حضورؐ آنسوؤں سے فروزاں ہیں آنکھیں
پشیماں پشیماں پشیماں ہیں آنکھیں
ہے حیرت کی مٹی سے منظر اٹا سا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

تیقن کی منزل گماں میں نہیں ہے
کہ جرات دلِ ناتواں میں نہیں ہے
ہمارا کوئی اس جہاں میں نہیں ہے
برہنہ سروں پر ہے فتنوں کا پہرہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

درودوں کو طشتِ ہنر میں سجا کر
قلم کو میں سینے سے اپنے لگا کر
یہ آنسو بجھی چشم تر میں سجا کر
میں حاضر ہوں دربارِ عالی میں آقاؐ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

لئے اپنے ہاتھوں میں نعتوں کی ڈالی
کھڑا ہے در پاک ہر اک سولی
کرم کی نظڑ ایک، طیبہ کے والی
ملے، آپؐ کی قاسمیت کا صدقہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

چراغِ دعا ہاتھ میں ہے کسی کے
رکھے پھول چاروں طرف روشنی کے
اتر آئے خورشید بھی آگہی کے
کھلا لب پہ صلِ علی کا صحیفہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حضور آپؐ ہی ہیں غلاموں کے والی
بھکاری ہیں ہم آپؐ کے ہیں سوالی
دکھا دیں ہمیں اپنے روضے کی جالی
نہیں زندگانی کا کوئی بھروسہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

صبا خوشبوؤں کے بناتی ہے گجرے
سرِ شاخِ جاں پھر سجاتی ہے گجرے
دھنک، رنگ و بو کے کھلاتی ہے گجرے
ثنا کا گلِ تر ہے ہونٹوں پہ مہکا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

مسائل کا سر پہ ہے طوفان آقاؐ
کریں مشکلیں میری آساں آقاؐ
اب وجد مرے سارے قربان آقاؐ
غلامی مری میرے ایمان کا حصہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

مجھے بھی علم آگہی کا عطا ہو
ہتھیلی پہ روشن وفا کا دیا ہو
محافظ، چراغِ سحر کی، ہوا ہو
اجالا، اجالا نبی جی اجالا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

میں اپنی ہی کھوئی ہوئی اک صدا ہوں
تہی دست ہوں در بدر ہو گیا ہوں
لئے دامنِ آرزو پھر رہا ہوں
کہ خالی ہے یا مصطفی میرا کاسہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

مسائل کی دلدل میں کب سے گڑا ہوں
مصائب کے جنگل میں تنہا کھڑا ہوں
حضورؐ آج بھی ٹھوکروں میں پڑا ہوں
مجھے اپنے دامن میں لے لیجئے گا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

شبِ غم کی تنہائیاں اور میں ہوں
حوادث کی پہنائیاں اور میں ہوں
زمانے کی رسوائیاں اور میں ہوں
مقفل ہوا ہے دعاؤں کا حجرہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

ہوائوں کے رحم و کرم پر ہوں کب سے
بہت خوف آنے لگا شہر شب سے
بچوں کس طرح چشم شامِ غضب سے
مری زندگی کانچ کی ایک گڑیا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

سر مقتل شب میں ماتم کناں ہوں
تخیل کے دامن پہ اشکِ رواں ہوں
نہیں جانتا، یا نبیؐ! میں کہاں ہوں
ہوا ختم حرف دعا کا ذخیرہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

ندامت کے اشکوں سے دامن کو دھوئیں
جواں سال بیٹے کہاں جا کے روئیں
کہاں اپنی محرومیاں جا کے کھوئیں
ہے نوحہ کناں آج بھی ماں کی ممتا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

مفاہیم تبدیل ہونے لگے ہیں
شکنجے میں اہل ہنر آ گئے ہیں
چراغ فصیل دعا بجھ چکے ہیں
زباں پر رہے ہر گھڑی اللہ اللہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

فسردہ سے لمحات کے جال میں ہوں
اداسی کے کب سے مہ و سال میں ہوں
کروں کیا بیاں میں کہ کس حال میں ہوں
حضورؐ آج بھی ہے میرا دل شکستہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

یہ پت جھڑ کا موسم محیط چمن ہے
حصار شب غم میں اجلا وطن ہے
تڑپ ہے نہ کوئی، نہ کوئی لگن ہے
شب غم کے مارے ہوئے ہیں مولاؐ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

پریشان بستی کا ہر اک مکیں ہے
ردائے یقیں بھی سروں پر نہیں ہے
خود اپنے لہو ہی میں ڈوبی زمیں ہے
کہاں سے نئے دن کا سورج نکلتا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حوادث کا بادل بھی چھایا ہوا ہے
کہ شیرازہ امت کا بکھرا ہوا ہے
چمن زندگانی کا اجڑا ہوا ہے
مرا مرثیہ میرے اشکوں نے لکھا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

لہو میں ہے تر آدمی کی کہانی
نہیں عدل و انصاف کی حکمرانی
یہی ہے قیامت کی روشن نشانی
دکھاتے ہیں اہل ہوس کو تماشا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

گلستانِ نطق و بیاں جل رہا ہے
پرندوں کا بھی آشیاں جل رہا ہے
نئے دن کا نام و نشاں جل رہا ہے
عطاہو خنک موسموں کا سراپا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

مقدر بنا ہے یہ جرم ضعیفی
ہے دامن سے لپٹی ہوئی کم نصیبی
ہے امت کھڑی مقتلوں میں نبی جیؐ
ہوائیں بھی دیتی نہیں آ کے پُرسا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

ہر اک قریۂ زر ہے کوئے ملامت
سلاطین عالم کو بھی ہو ہدایت
حضورؐ امن عالم کو دیں پر بشارت
ہے دیوار و در پر لکھا کس نے نوحہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

تشدد نے چہروں کو مرجھا دیا ہے
صداقت کے سورج کو گہنا دیا ہے
کہ مائوں کی ممتا کو تڑپا دیا ہے
لہو چار جانب سے پھر آج برسا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

زر ناروا کے پجاری بہت ہیں
قطاروں کے اندر بھکاری بہت ہیں
درندہ نما یہ شکاری بہت ہیں
کہ جبر مسلسل مقدر ہے اپنا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

غضب رت بدلنے پہ آتی نہیں ہے
خزاں صحن گلشن سے جاتی نہیں ہے
ہوا پھول کوئی کھلاتی نہیں ہے
عمل ہر کسی کا بھی ہے بے نتیجہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

نہ اخلاق کوئی نہ کردار کوئی
نہیں گلفشاں اب چمن زار کوئی
وطن میں نہیں آج بیدار کوئی
مسلط ہے شامِ الم کا اندھیرا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

فلسطین و کشمیر زخمی پڑے ہیں
کہ افغانیوں کے بھی گھر جل چکے ہیں
مقدر میں آنسو ہی آنسو لکھے ہیں
نہیں ہاتھ میں صبحِ روشن کی ریکھا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

شیاطینِ عالم خدا بن گئے ہیں
زمین پر شبِ ناروا بن گئے ہیں
ہمارے لیے کربلا بن گئے ہیں
رعونت، تکبر کا طوفان ہے اٹھا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

عذاب مسلسل میں ہم جی رہے ہیں
درندے ہمارا لہو پی رہے ہیں
سحر کے ہمیں منتظر بھی رہے ہیں
رواں آنکھ سے ہے ندامت کا چشمہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

علم عدل و انصاف کا سرنگوں ہے
نہ کوئی لگن ہے نہ کوئی جنوں ہے
کہ شام و سحر اک فسوں ہی فسوں ہے
چلی ہے کدھر امت پا برہنہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

مہذب دنوں سے نہیں واسطہ اب
مقفل ہے عظمت کا ہر راستہ اب
کہ تاریخ سے بھی نہیں رابطہ اب
بھنور میں ہے کب سے ہمارا سفینہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

خدا کی خدائی میں زر بولتا ہے
بھرم پارسائوں کا بھی کھولتا ہے
کہ چاندی میں انساں کو تولتا ہے
نہیں معتبر سیم و زر کا حوالہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

ستاروں کی تسخیر پر یہ چلا ہے
ہتھیلی پر مظلوم کا سر دھرا ہے
مفادات کا خود بھی قیدی بنا ہے
ضمیر آدمی کا نہیں آج زندہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

ہوا صبر کی آج نوحہ کناں ہے
اٹی گردِ غم سے رہِ کارواں ہے
بساطِ عمل پر دھواں ہی دھواں ہے
اٹھاتے ہیں ہم، آہ! صدمے پہ صدمہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

ستاروں کی تسخیر پر یہ چلا ہے
ہتھیلی پہ مظلوم کا سر دھرا ہے
مفادات کا خود بھی قیدی بنا ہے
ضمیر آدمی کا نہیں آج زندہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

ہوا صبر کی آج نوحہ کناں ہے
اٹی گردِ غم سے رہِ کارواں ہے
بساطِ عمل پر دھواں ہی دھواں ہے
اٹھاتے ہیں ہم، آہ! صدمے پہ صدمہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

نشاں پانیوں میں بہائے گھٹا نے
دیے رہگذر کے بجھائے ہوا نے
شبستاں جلائے شبِ ناروا نے
محیط شب و روز ہے بخت خفتہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حصارِ ضعیفی میں کب تک جیؤں اب
میں کس کس کے جھوٹے خدا سے ڈروں اب
نہیں کوئی پرسانِ حالِ زبوں اب
کبھی لہلہائے مرے من کا صحرا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

دبائو چراغوں پہ شب کا بہت ہے
تفاخر بھی نام و نسب کا بہت ہے
فصیلوں پہ ساماں غضب کا بہت ہے
نبی جیؐ! ہے امنِ عالم کا مژدہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

سر مقتلِ شب دیے سب بجھا کر
حقوق آدمی کے ازل سے دبا کر
تشدد کو پیراہنوں میں چھپا کر
کرے ابن آدم خدائی کا دعویٰ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

مقفل ہوئی ہے ہماری زباں بھی
نہیں عدل و انصاف کا سائباں بھی
ہے قانون جنگل کا نافذ یہاں بھی
ابھی سے زمیں پر قیامت ہے برپا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

غلاموں کا کب سے لہو بہہ رہا ہے
مسلماں ستم پر ستم سہہ رہا ہے
کوئی سر جھکا کر یہی کہہ رہا ہے
قلم وقت کا آنسوئوں میں ہے ڈوبا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

جلی خیمہ گہ سے دھواں اٹھ رہا ہے
تمنائوں کا گھر کا گھر جل چکا ہے
سروں پر بھی کوہِ گراں آ پڑا ہے
لٹے قافلے کی نہ منزل نہ جادو

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

ہر اک خیمہ و جان و دل جل چکا ہے
کہ بغداد تصویر حیرت بنا ہے
جدھر دیکھتا ہوں ادھر کربلا ہے
اب اشکوں سے تر ہے فرات اور دجلہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

مقاصد کے چہرے بدلتے رہیں گے
افق کے مناظر بھی ڈھلتے رہیں گے
چراغوں کو جلنا ہے جلتے رہیں گے
کرے کون پورا ہوا کا تقاضا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

بلائوں کے سائے بھی لہرا رہے ہیں
عزائم کے چہروں کو دھندلا رہے ہیں
مسائل ہی بڑھتے چلے جا رہے ہیں
مصائب میں ہونے لگا ہے اضافہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

اداسی میں لپٹا ہوا ہے قلم بھی
ہتھیلی پہ آنسو ہوئے ہیں رقم بھی
اگی ہے میرے کھیت میں فصل غم بھی
ہے کندھوں پہ اپنے دکھوں کا ہمالہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

دھنک رنگ اپنے لٹاتی نہیں ہے
چراغ آرزو کے جلاتی نہیں ہے
نشان شامِ غم کے مٹاتی نہیں ہے
کرم باطفیل گروہِ صحابہؐ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

چمن میں کھلے پھول مرجھا گئے ہیں
مرے خوابِ آسودگی جل رہے ہیں
بدن پر اگے بال و پر جھڑ چکے ہیں
برہنہ سروں پر نہیں کوئی سایہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

کھلے آسماں کے تلے ہے قبیلہ
بہانہ ہے کوئی، نہ ہے کوئی حیلہ
بظاہر کوئی بھی نہیں ہے وسیلہ
نہ گھر بار کوئی، نہ کوئی ٹھکانہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

ہے زنجیر حالات کا ایک قیدی
ہے اپنے مفادات کا ایک قیدی
غبارِ شب ذات کا ایک قیدی
حضورؐ! آدمی بن چکا ہے درندہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

ستارے تدبر کے ڈوبے ہوئے ہیں
سر شاخ دل پھول سوکھے ہوئے ہیں
تفکر کے موتی بھی ٹوٹے ہوئے ہیں
ہمارا ہے ہر فیصلہ عاجلانہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

عدو سرخ آنکھیں نکالے گا کب تک
سروں پر بجھی راکھ ڈالے گا کب تک
ہماری وہ پگڑی اچھالے گا کب تک
کیا غیر کی ہمنوائی پہ تکیہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

ہجوم بوئے گل کہاں کھو گیا ہے
ستارا مقدر کا روٹھا ہوا ہے
حوادث کا سورج سروں پر کھڑا ہے
عطا پھر ہو کے ننگے سروں پر عمامہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

سر شام ظلمت افق سے اٹھی ہے
سر شام ہر آرزو جل رہی ہے
سر شام ہی روشنی بجھ گئی ہے
سر مقتل شب چھٹے یہ اندھیرا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

نہیں کوئی اپنا جسے ہم کہیں گے
رہِ خاک کا رزق بنتے رہیں گے
کڑی دھوپ کا جبر کب تک سہیں گے
حضورؐ آپؐ ہی ہم غربیوں کی دنیا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

عجب کسمپرسی کا عالم ہے طاری
شب و روز آقاؐ ہیں امت پہ بھاری
تدبر سے ہے ہر عمل جس کا عاری
فساد اور شر کی قیامت ہے برپا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

ادھر بھی ادھر بھی کئی فتنہ گر ہیں
سروں پر مسلط حلیفاںِ شر ہیں
نہتے جواں اپنے سینہ سپر ہیں
حضورؐ آج بھی ہدف صحنِ اقصٰی

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

ہے امت حصارِ غم و ابتلا میں
کہ ہے ایک مدت سے دامِ قضا میں
نہیں جانتے ہم کہ شہر وفا میں
کھلا آج بھی ہے در شہر توبہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

تصور بلندی کا رزقِ زمیں ہے
جہالت مکاتب میں مسند نشیں ہے
عَلم عِلم کے ہاتھ میں بھی نہیں ہے
کبھی اوجِ رفعت پہ چمکے ستارا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

لہو میں ہے تر داستاں آدمی کی
سبھی جل بجھیں بستیاں آدمی کی
سجی ہر طرف دھجیاں آدمی کی
فضائے جہاں ہے بہت ہی کشیدہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

تفکر کی شاخِ ثمر ڈھونڈتے ہیں
متاعِ یقیں کے گہر ڈھونڈتے ہیں
حضورؐ اپنے ہم بال و پر ڈھونڈتے ہیں
ندامت کے اشکوں سے دامن ہے بھیگا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

ہے شہروں میں چہروں کا جنگل منافق
ہماری صدی کا ہے ہر پل منافق
سجاتے ہیں بستی میں مقتل منافق
جلی شاخِ جاں پر کوئی پھول کھلتا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

ہر اک دشمن جاں ہے پیاسا لہو کا
ملوث ہیں سازش میں اغیار، آقاؐ
ہے تضحیک و تحقیر کا سر پہ لادا
عذاب مسلسل کسی روز ٹلتا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

مفادات کی قید میںہے ابھی تک
خرافات کی قید میں ہے ابھی تک
سیہ رات کی قید میں ہے ابھی تک
ہجوم بوئے گل ادھر سے گزرتا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

ضمیر ان کا مردہ، بدن ان کا مردہ
زباں ان کی مردہ، دہن ان کا مردہ
قلم ان کا مردہ، سخن ان کا مردہ
ہے خارش زدہ رہنمائوں کا چہرہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

سرِ مقتل شبو لہو بہہ رہا ہے
کہانی تشدد کی یہ کہہ رہا ہے
کہ انساں ستم پر ستم سہہ رہا ہے
حضورؐ آج ہے فتنہ و شر کا غلبہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

ہے قد غن سی پچھلے پہر کی فغاں پر
ہے دستِ تظلم بھی حرف اذاں پر
ہے ابلیس کی حکمرانی جہاں پر
کبھی تو بشر پر یہ ہو آشکارا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

فسادات کا آج محور ہے انساں
تضادات کا سخت پتھر ہے انساں
روایات کا زرد منظر ہے انساں
ضمیر آدمیت کا ہے پارہ پارہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

نئے دن کی اب آرزو بھی نہیں ہے
تجسس کی، تو گفتگو بھی نہیں ہے
رواں سوچ کی آبجو بھی نہیں ہے
ہیں قعرِ مذلت میں، دیجئے سہارا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

چراغِ عزائم بجھا ہی بجھا اب
اثاثہ یقیں کا لٹا ہی لٹا اب
دریچہ قضا کا کھلا ہی کھلا اب
کرے کیا بھلا امتِ بے ارادہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

فراست کا قصر یقیں لٹ گیا ہے
سر شام رزق زمیں لٹ گیا ہے
ہمارا اثاثہ یہیں لٹ گیا ہے
ہمیں عزم محکم عطا کیجئے گا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

در غیر پر ٹھوکریں کھا رہے ہیں
اشاروں پہ ہم رقص فرما رہے ہیں
تماشا زمانے کو دکھلا رہے ہیں
کریں علم کے شہر سے استفادہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

ہوائے مخالف کے لشکر کھڑے ہیں
فصیلوں کے سارے دیئے بجھ چکے ہیں
عزیزوں کے خیمے بھی سب جل رہے ہیں
سروں پر کرم کا رہے شامیانہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

درِ خوف اذہان نو میں بھی وا ہے
ہلاکت کا آسیب گھر میں چھپا ہے
طلسم شب ناروا بولتا ہے
کہاں جائے گا آج دہشت کا مارا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

صدی یہ غلاموں پہ کتنی ہے بھاری
تنزل ہے، آقاﷺ، تسلسل سے جاری
عجب بے حسی کا یہ عالم ہے طاری
عدو چار جانب سے ڈالے ہیں گھیرا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

مسلماں کا خوں آج ارزاں ہوا ہے
مسلماں ہدف ظلم کا بن رہا ہے
کہ جرم ضعیفی سے مقتل سجا ہے
دکھائی نہیں دے رہا کوئی رستہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حضورA امتی آپ کا بے زباں ہے
سر شاخ ٹوٹا ہوا آشیاں ہے
پذیرانئی کا موسم گل کہاں ہے
تصورات امامت کا ماضی کا قصہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

معاشی غلامی کی دولت ملی ہے
تشخص کی دنیا بھی اجڑی ہوئی ہے
ہر اک خیر کے کام سے دشمنی ہے
نہیں معتبر آج اپنا حوالہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

اندھیروں سے تعمیر ہونے لگے ہیں
اندھیروں سے تحریر ہونے لگے ہیں
اندھیروں سے تعبیر ہونے لگے ہیں
کبھی ہم بھی تھے روشنی کا مرقع

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

بدن نارسائی کا ہاتھوں میں اپنے
ورق جگ ہنسائی کا ہاتھوں میں اپنے
ہے کاسہ گدائی کا ہاتھوں میں اپنے
ندامت میں ڈوبا ذہانت کا چہرہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حسد کے علم آج لہرا رہے ہیں
سلگتے سے لمحے چلے آ رہے ہیں
فریب مسلسل بھی ہم کھا رہے ہیں
ریاکار در آئے ہیں بے تحاشا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

کوئی ہم سفر ہے نہ ہے کوئی منزل
نہ ہے کوئی کشتی نہ ہے کوئی ساحل
طبیعت میں کم ہمتی بھی ہے شامل
اٹھائے ہوئے خود ہیں اپنا ہی لاشہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

شرف آدمی کا بھلائے ہوئے ہیں
چراغ عمل بھی بجھائے ہوئے ہیں
کہ ہاتھ اپنے دونوں اٹھائے ہوئے ہیں
ہے کندھوں پہ بے غیرتی کا جنازہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

جہالت کے ہیں داغ اپنی جبیں پر
قدم ڈگمگانے لگے ہیں زمیں پر
پڑی چوٹ پھر آج قلب حزیں پر
کریں اپنی امت پہ رحمت کی چھایا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

شب و روز عریانیوں سے عبارت
مہ و سال نادانیوں سے عبارت
تخیل بھی حیرانیوں سے عبارت
نہ علم و عمل پر کسی کو ہے دعویٰ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

مناظر لہو رنگ، دشت و جبل میں
سسکتے ہیں ہم آج دست اجل میں
نہیں ولولہ کوئی تازہ عمل میں
قیادت کا ہر خواب بھی ہے ادھورا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

غریق ندامت ہے آنکھوں کا پانی
مقدر ہمارا بنی بے زبانی
ابھی چشم تر لکھ رہی ہے کہانی
سنیں ہم کہاں تک شب غم کا قصہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

کوئی پھول شاخوں پہ مہکا نہیں ہے
کوئی چاند آنگن میں اترا نہیں ہے
حوادث کا سورج بھی ڈوبا نہیں ہے
ہے گرداب غم میں ہمارا سفینہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

غلاموں کا پھر طاق جاں جگمگائے
تمدن کی خوشبو لبوں پر سجائے
مہذب دونوں کی بہت یاد آئے
وہی عہد تھا ہر زمانے سے اعلیٰ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

بجھے طاق جاں میں نہیں روشنی ہی
کہاں کھو گئی ہمسفر جو کبھی تھی
نبی جیؐ، نبی جیؐ، نبی جیؐ، نبی جیؐ
ہو ہر سمت خلد سخن میں اجالا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

عطا، امن کا، نسل نو کو ہو پرچم
سلگتی رہے کب تلک چشم پرنم
رکھیں اس کے ہر زخم پر آپؐ مرہم
کھلے پھول بن بن کے ایک ایک لمحہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

تحمل، تدبر سے عاری عمل ہے
مصائب کا بے آب دشت و جبل ہے
کھڑی سر پہ سرکارؐ کب سے اجل ہے
شمیم کرم کا کوئی ایک جھونکا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

کھلیں پھول صل علیٰ کے زباں پر
رقم چاند تارے ہوں چرخ گماں پر
عطاؤں کی رم جھم گرے کشت جاں پر
کہ نوک قلم پر بھی پھوٹے یہ نغمہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

شریک سفر حشر میں بھی قلم ہو
قیامت کے سورج کی حدت بھی کم ہو
کرم ہی کرم آپؐ ہی کا کرم ہو
کوئی آج بھی ابر رحمت کا چھینٹا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

مقدر کے ڈوبے ہوئے ہیں ستارے
بہت دور ہیں عافیت کے کنارے
تفکر سے خالی سخن ہیں ہمارے
کھلے یا نبیؐ! آج ایک ایک نکتہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

کسے اپنی فریاد جا کر سنائیں
کسے ماجرا اپنے دل کا بتائیں
کسے زخم اپنے بدن کے دکھائیں
کہاں جائیں ہم، یا نبیؐ! دل گرفتہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

دل چاک کی پھر سے بخیہ گری ہو
عزائم کی سینوں میں پھر روشنی ہو
نئی یہ صدی بھی ہماری صدی ہو
پلٹ آئے پھر عظمت عہد رفتہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

کرم کیجئے عالم جاں کنی ہے
ردائے تشدد سروں پر تنی ہے
کہ صدیوں سے سرکارؐ جاں پر بنی ہے
عجب کمسپرسی میں ہے ساری دنیا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

اِدھر بھی، اُدھر بھی، درندوں کے لشکر
برستے ہیں پیہم حوادث کے پتھر
برہنہ سروں پر شفاعت کی چادر
بدل جائے، یا مصطفی! گھر کا نقشہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

ہے مشعل عمل کی بجھی، یا محمدؐ
ہو ہر سمت پھر روشنی، یا محمدؐ
سنیں میری فریاد بھی، یا محمدؐ
کھلے میرے ہاتھوں میں پرچم دعا کا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

افق تا افق آپؐ کی حکمرانی
کراں تا کراں آپؐ کی راجدھانی
کریں حشر کے بعد بھی پاسبانی
مقدر نہ ہرگز بنے بختِ خفتہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

جوانان جنت کے سردار ہیں جو
خنک موسم صحن گلزار ہیں جو
حروف وفا کے سزاوار ہیں جو
ملے آپؐ کے اُن نواسوں کا صدقہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

کھلیں رحمتوں کے دریچے ادھر بھی
شمیم محبت کے جھونکے ادھر بھی
ادھر بھی گھٹا آج برسے، ادھر بھی
کہ سورج نے جھلسا دیا پھر سے چہرہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

مدینہ، جمال دل عاشقیں ہے
ہوا اس نگر کی بہت دلنشیں ہے
زر خاک طیبہ ہی نور یقیں ہے
کرم کی ردا مانگتا ہے زمانہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

کریں آپ صحرا نشینوں پہ سایہ
کریں آپ اجڑی زمینوں پہ سایہ
جلی بستیوں کے مکینوں پہ سایہ
کڑی دھوپ میں کوئی بادل کا ٹکڑا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

رسول محبت، کرم کی نگہ ہو
کوئی تو ہماری بھی جائے پنہ ہو
مقدر ہمارا نہ ہرگز گنہ ہو
فقط آپ ہی ہیں ہمارا وسیلہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

برہنہ سروں پر کرم کی گھٹا ہو
لب خشک پر موج آب بقا ہو
ہمیں عفو و رحمت کی چادر عطا ہو
فلک پر تو ہے ان عطاؤں کا چرچا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

تلاش سکوں میں یہ نکلا ہوا ہے
مگر ذات اپنی میں بکھرا ہوا ہے
حضورؐ، ابن آدم کہ بھٹکا ہوا ہے
ملے ابن آدم کو نقش کف پا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

ہدف آسماں کا ہے چھوٹی سی بستی
ہواؤں کے رحم و کرم پر ہے ہستی
تمام اب تو ہو جائے قسمت کی پستی
حصارِ شبِ رنج و غم میں ہے دنیا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

رہوں عمر بھر رہگزار کرم میں
ہو ایک ایک لمحہ حصار کرم میں
مجھے موت آئے بہار کرم میں
سروں پر رہے بعد محشر بھی سایہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

ادھر ہو کرم کی عطا یا محمدؐ
حریم ادب کی نوا یا محمدؐ
چلی آئے باد صبا یا محمدؐ
کہ ہے عالم جس میں ایک دنیا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

نہ آلودہ ہو دامن دل ہوس سے
لڑوں روز و شب کربلائے نفس سے
رہائی ملے سیم و زر کے قفس سے
کھلے من کے اندر بھی گلزارِ تقویٰ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

مرا بخت خفتہ بھی، سرکارؐ جاگے
مقدر کا روشن ستارا نہ ڈوبے
کرم کی گھٹا شہر طیبہ سے اٹھے
کیا ہے سپرد ہوا میں نے نامہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

رقم، تشنہ ہونٹوں پہ، حرف دعا ہے
وظیفہ مرا مصطفی، مصطفی ہے
نبی جی! مری بس یہی التجا ہے
پڑے دامن دل پہ کوئی نہ دھبہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

سلامت رہے آپ کے در سے نسبت
سلامت رہے یہ بہار عقیدت
سلامت رہے چسم پرنم کی حیرت
سلامت رہے یہ غلامی کا رشتہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

فراق مدینہ میں روتا رہا ہوں
میں اشکوں کی مالا پروتا رہا ہوں
دعا کشت لب میں بھی بوتا رہا ہوں
دکھا دیجئے یا نبی، اپنا روضہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

زر آگہی کا خزینہ عطا ہو
کرم کا نبی جی! سفینہ عطا ہو
شفاعت کا روشن نگینہ عطا ہو
سپرد ہوا کر رہا ہوں عریضہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

نقوش قدم کا دفینہ بنا دیں
دل مضطرب کو مدینہ بنا دیں
کہ سرکارؐ اپنا مہینہ بنا دیں
ہے اعزاز میرا غلامی کا پٹکا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

نوائے لب بے نوا کا تصدق
خیابان غار حرا کا تصدق
چمن زار حرف دعا کا تصدق
جمال رخ شہر طیبہ کا صدقہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

فسردہ فسردہ سا رہتا ہے شاعر
ستم آسمانوں کے سہتا ہے شاعر
کہ اپنے ہی اشکوں میں بہتا ہے شاعر
حضورؐ آج بھی دیجئے گا دلاسہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

حضورؐ، آپ ہی عافیت کے پیمبر
عطا پھر ہو حوا کی بیٹی کو چادر
حضورؐ آج پہنچا ہے انسان در پر
تلاش سکوں میں بھٹکتا بھٹکتا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

قلم حشر کے روز بھی گلفشاں ہو
ورق پر رقم عشق کی داستاں ہو
حضورؐ آپ کا مرتبہ کیا بیاں ہو
قدم، بڑھ کے لیتا ہے عرش معلی

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

جہاں لمحہ لمحہ برستی ہے رحمت
جہاں ہر قدم پر ملے ایک جنت
جہاں گم ہوئی ہے مری چشم حیرت
دکھا دیجئے وہ مقامات اعلیٰ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

حضورؐ آپ احوال سے باخبر ہیں
غلاموں کے اعمال سے باخبر ہیں
کہ کردار و اقوال سے باخبر ہیں
مقفل نہ ہو آرزوؤں کا رستہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

مرے دامن آرزو میں بھی کلیاں
دکھا دیں مجھے پھر مدینے کی گلیاں
مرے لب بھی چومیں وہ مصری کی ڈلیاں
کبھی ہو مری شام غم کا سویرا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

کبھی میرے گھر میں بھی تشریف لائیں
نقوش قدم روشنی بن کے آئیں
اِدھر جگمگائیں، اُدھر جگمگائیں
مرے دل میں بھی بس رہا ہے مدینہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

شہا! عمر گذرے ثنا کرتے کرتے
سدا وردِ صل علیٰ کرتے کرتے
کہ حسان کی اقتدا کرتے کرتے
ملے نعت جامی و سعدی کا لہجہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

ورق پر قلم سر جھکانے کھڑا ہو
مرا نطق قدموں تلے آ پڑا ہو
کرم کا سمندر بڑے سے بڑا ہو
عطا ہو عطا رحمتوں کا خزینہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

قلم حرف توصیف سے آشنا ہو
پرندہ تخیل کا بھی پرکشا ہو
درِ نور صل علیٰ کا کھلا ہو
لکھے وقت پھر روشنی کا وثیقہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

میں رعنائی سبز گنبد میں گم ہوں
ازل ہی سے فیضان بے حد میں گم ہوں
ریاض التجاؤں کے معبد میں گم ہوں
قصیدہ، حضورؐ، آج بھی میں نے لکھا

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

طلب کیجئے مجھ کو بہر سلامی
سجے میرے سر پر بھی تاج غلامی
ہوائے مدینہ سے ہو ہمکلامی
عطا ہو قدوم مبارک کا صدقہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

مرے لب پہ یا مصطفی مصطفی ہو
ہر ایک سانس میں نور صل علیٰ ہو
مری چشم تر پھول کا دائرہ ہو
غلامی کا ہو میرے سر پر عمامہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

یہ عاصی گنہ گار کیا لب کشا ہو
مجھے اذن پھر حاضری کا عطا ہو
حضورؐ آنسوؤں کی بدن پر ردا ہو
ہو مقبول، سرکارؐ، یہ حرف گریہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

خدا سے خدا کی رضا مانگتے ہیں
مہذب دنوں کی فضا مانگتے ہیں
غلامان کمتر دعا مانگتے ہیں
ٹلے سر سے یا رب! شب سرکشیدہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ

O

ہر اک خیمہ جان و دل جل چکا ہے
کہ بغداد تصویر حیرت بنا ہے
جدھر دیکھتا ہوں ادھر کربلا ہے
اب اشکوں سے تر ہیں فرات اور دجلہ

سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ
سلامٌ علیکَ، سلامٌ علیکَ