ریاض حسین چودھری کی غزل گوئی - (عارف عبدالمتین، 1976ء)- ریاض حسین چودھریؒ کا جہان فن

[ریاض حسین چودھری شاعر تو ابتدا ہی سے تھے۔ نوعمری میں ہی ان کی طبیعت شعر گوئی کے لئے موزوں تھی۔ چنانچہ ان کے برادر عزیز جناب امجد حسین چودھری بتاتے ہیں کہ مڈل سکول کے طالب علم تھے کہ گھر میں اکثر بات چیت کے دوران فی البدیہ شعر کہہ جاتے۔ جب 1958ء میں مرے کالج میں گئے ہیں تو اس وقت وہ غزل گوئی شروع کر چکے تھے۔ پھر جب وکالت میں آئے تو ساتھ ہی ایک ماہنامہ کی ادارت بھی سنبھال رکھی تھی۔ سیالکوٹ حلقۂ اربابِ ذوق کا قیام 1974ء میں عمل میں آیا اور جناب پروفیسر حفیظ صدیقی صاحب اس کے پہلے سیکرٹری منتخب ہوئے۔ اس دوران ریاض کے دنیائے ادب کے سینئر احباب سے قریبی روابط وجود میں آئے۔ چنانچہ 1976ء میں ٓپ خود سیکرٹری حلقہ ارباب ذوق منتخب ہوئے تو حلقے کی سرگرمیوں میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ آپ 1980ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ اس دوران ماہانہ مشاعرے باقاعدگی سے کراتے جس میں لاہور سے احمد ندیم قاسمی، عارف عبدالمتین، عطاء الحق قاسمی، خالد احمد، حفیظ تائب اور کئی دیگر احباب شریک ہوتے۔ اس زمانے میں ریاض کی غزل ادبی رسالوں اور جرائد میں طبع بھی ہو رہی تھی۔ اور ان کی غزلوں کا مجموعہ ’’سرِ صلیبِ بدن‘‘ بھی وجود میں آ چکا تھا جس کی اشاعت مؤخر ہوتی چلی گئی۔ تاہم آپ کی غزل گوئی کو ادبی حلقوں میں بہت پسند کیا جانے لگا۔ چنانچہ 1976ء میں جناب عارف عبدالمتین نے ان کی غزل پر یہ تحریر لکھی جو نذرِ قارئین ہے۔ یہ ان کے اپنے ہاتھوں سے لکھی ہوئی تحریر جناب ریاض کی فائلوں سے ملی۔ نعت کے ساتھ اس کا براہ راست تعلق تو نہیں تاہم وہ غزل جسے ریاض نے بعد میں ’’غزل کاسہ بکف‘‘ کہہ دیا اور جسے انہوں نے نعت کے لئے اختیار کرنے کا اعزاز بخشا اس پر ایک صاحب فن کے ریاض کے عالم شباب کے شعری کلام پر اظہاریہ یقینا ادبی تنقید کا ایک نادر نمونہ ہے جس کی روشنی میں ریاض کی نعت کے مطالعہ کا لطف ہی کچھ اور ہو جاتا ہے۔ ریاض تو غزل کو ایک بھرپور استعارے کے طور پر نعت میں استعمال کرتے ہیں جس سے ان کے جہانِ معنی کی وسعت دوچند ہو جاتی ہے اور فنی حسن کو وہ جلا ملتی ہے جو دیگر اساتذۂ کلام مدحت نگاروں کے ہاں بھی کم میسر آئی ہے۔ غزل دراصل ان کی شعری لغت کا مکتبِ فکر ہے جس سے وہ حسن کلام کشید کرتے رہے۔ شیخ دباغ]

.......................................

ریاض حسین چودھری جدید غزل نگاروں کے انبوہ میں ایک ممتاز مقام کے مالک ہیں، اور ان کے کلام کے محتاط اور تفصیلی مطالعہ سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں یہ امتیاز بے وجہ حاصل نہیں بلکہ اس کے پسِ پشت ان کا وہ طویل ریاض کارفرما ہے جس کی بدولت انہوں نے اپنی فکر میں ندرت اور اپنے لہجے میں انفرادیت کے درخشاں عناصر کو ظہور میں لانے کی کامیاب سعی کی ہے۔

جہاں تک ان کی ندرتِ فکر کا تعلق ہے، اس کا تعین ہم ان الفاظ میں کرسکتے ہیںکہ انہوں نے ذہن و روح کے غیر مرئی بامِ رفعت تک رسائی حاصل کرننے کے لیے جسم کے مرئی زینہ کو بروئے کار لانے کے رویہ کی فنکارانہ نمائندگی کا فریضہ سرانجام دیا ہے اور ظاہر ہے کہ جب میں ذہن و روح کی بات کرتا ہوں تو میں اس کے حوالے سے تہذیب و ثقافت کی اس سطح کا تذکرہ کرتا ہوں جو فرد کے توسط سے اپنے آپ کو بے نقاب کرتی ہے اور واضح رہے کہ شاعری میں اجتماعی بیرون کی شناخت کے لیے شخصی اندرون کے دروازے پر دستک دینے کے پُر اسرار اور جانکاہ عمل کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ میرے اس معروضہ کی گرفت میں لے لینے سے ریاض حسین چودھری کے اولین مجموعہ کلام کے نام کا وہ جواز بھی فراہم ہوجاتاہے جو ’’سر صلیب بدن‘‘ کی موزونیت پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے کیونکہ اسے کتاب کے مطالعہ کے سلسلہ میں اس سنگ ریزے کی حیثیت حاصل ہے، جو قارئین کے افکار کی جھیل میں ایسا ارتعاش پیدا کرتا ہے جو لمحہ بہ لمحہ پھیلتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جھیل کی پوری پہنائی اس کی لپیٹ میں آجاتی ہے اور یہ لپیٹ اپنی معنویت کے اعتبار سے اگر ایک طرف گریز پا مادی حقیقتوں پر محیط ہے تو دوسری طرف روحانی اندوہ ناکی بلکہ کرب انگیزی کی آئینہ دار ہے۔ ظاہر ہے کہ جب مسئلہ آج کے عیسیٰ کا ہو تو طبعی اور مابعد الطبیعاتی حوالہ ایسی ہی دو گونہ صورت حال کو وجود میں لاسکتا ہے جس کے سینے سے شعور ذات اور ادراک کائنات کے سوتے پھوٹتے ہیں۔

ان مفروضات کی روشنی میں ریاض حسین چودھری کے کلام میں ذیل کے شعر کی کلیدی حیثیت کے قبول کا مرحلہ طے کرنا خارج از امکان نہیں رہتا۔ وہ کہتے ہیں:

عیسیٰ ہوں اپنے عہد کا زندہ اٹھا مجھے،
کب سے سرِ صلیب بدن ہوں عذاب میں!

میں اپنی بات کو یوں بھی واضح کرسکتا ہوں کہ فہمِ وجود کا قضیہ کافی پیچیدہ، پریشان کن اور اذیت ناک ہے اور ہمارے پاس جہاں اسے حل کرنے کا واحد ذریعہ ہمارا جسم ہے، وہاں جسم ہی اس قضیہ کے تصفیہ کے لیے عدالت کی حیثیت رکھتا ہے اور اس عدالت میں جسم ہی کو بیک وقت مدعی، مدعا علیہ اور عینی شاہد کے مراتب حاصل ہوتے ہیں، اس لیے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں، اگر قارئین کو ریاض حسین چودھری کی شاعری میں جسم کے ان مراتب کے حوالے سے ایسی مختلف النوع کیفیات کی عکاسی میسر آئی جن کے تار و پود سے ان کے لیے ایک ہمہ جہت شخصیت کا پیکر وضع کرنا آسان ہوجائے جو اپنے طور پر مرتب بھی ہے اور غیر مرتب بھی، ریزہ ریزہ بھی ہے اور ثابت و سالم بھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ کہتے ہیں کہ

جب آئینوں کے مدمقابل گرا ہوں میں
کتنی حقیقتوں میں مجسم ہوا ہوں میں!

تو قارئین محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنے اس شعور کا اظہار کررہے ہیں جو اپنی شخصیت کی گونا گونیوں پر محیط ہونے سے دستیاب ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ دستیابی تلاشِ ذات کے اس طویل عمل کی مرہون منت ہوا کرتی ہے جو صدیوں پر پھیلا ہوتا ہے اور جس کی دلدوز سنگینی اس حقیقت سے عیاں ہے کہ پیکر انسانی جس قدر نازک ہے اس کا مادی گردو پیش اسی قدر گراں بار ہے۔ ملاحظہ فرمایئے اس صورت حال کا تذکرہ ریاض حسین چودھری ذیل کے شعر میں کس انداز سے کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

شبنم سے بدن نکلے ہیں صدیوں کے سفر پر،
اور دھوپ کے خیمے کھلی راہوں پہ تنے ہیں!

ظاہر ہے کہ جب خارج اس قدر بے رحم قاتل کی حیثیت رکھتا ہو اور فرد کے خود اپنے دائرہ میں مخالف قوت کار فرما ہو جس کے بارے میں اسے کہنا پڑے کہ:

شاید پھر اس کو میں بھی تحفظ نہ دے سکوں
میرا رقیب میرے بدن میں چھپا رہا!

تو اس صورت واقعہ کو الفاظ کا جامہ پہنانے کے دوران میں قلمکار کی وہ حالت زار ایک اٹل حقیقت کا روپ دھار لیتی ہے جس کا اظہار ریاض حسین چودھری کے ایک شعر میں بڑے بلیغ طریقے سے ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں:

میرے لبوں پہ راکھ جلے موسموں کی ہے،
میرے قلم کی نوک میں سمٹی ہیں تلخیاں!

ہر چند کہ جسم کے حوالے سے ادراک وجود کی تگ و تاز کے دوران میں اپنے اندر ایک متحارب طاقت کی موجودگی کا احساس یا خود کو معاندانہ روپ میں مشاہدہ کرنے کا طرز عمل بسا اوقات شعور ذات کے دشوار مرحلہ کو آسان بنادیتا ہے اور فرد ریاض حسین چودھری کی زبان میں کہہ اٹھتا ہے کہ

ہوتا ہوں اپنے آپ پہ میں منکشف ریاضؔ
اپنا رقیب بن کے اگر سوچنے لگوں!

تاہم کبھی کبھی یہی تگ و تاز اس المیہ کو بھی جنم دینے کا موجب بن جاتی ہے کہ روحانی ارتقاء کا عمل جسم کے انہدام کے باعث رک جاتا ہے اور شاعر اس درد ناک حقیقت کا اظہار یوں کرنے لگتا ہے کہ

کب تک فصیل جسم بچاتی ہمیں ریاضؔ
آخر خود اپنی روح کے ملبے پہ آگرے!

مگر اپنے آخری تجزیہ کے لحاظ سے انسانی جدوجہد کبھی بے ثمر نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ بابصیرت شعراء کا لب و لہجہ بحیثیت مجموعی رجائی ہوتا ہے اور وہ ارتقاء کی منازل طے کرتے ہوئے جن صعوبتوں سے گزرتے ہیں، انہیں لمحاتی تصور کرتے ہیں جس شکست و ریخت سے دو چار ہوتے ہیں، اسے ہنگامی قرار دیتے ہیں اور جن دکھوں سے ان کی مڈبھیڑ ہوتی ہے انہیں گرد راہ سے زیادہ وقعت نہیں دیتے۔ ریاض حسین چودھری انہی عرفان کے حامل شعراء میں سے ایک ہیں اور اسی سبب سے ان کی شاعری اپنے دامن میں بہت سے ایسے اشعار کو سمیٹے ہوئے ہے جو غم کی کسک کے ساتھ ساتھ امید کی سرشاری اور حوصلے کی سربلندی کے امین ہیں۔ تین شعر آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔ کہتے ہیں:

خود ہی پرچم لے کے نکلیں گے ریاض
ہم جو زنجیر شب غم کے عذابوں میں رہے!

سورج کی ہر کرن پہ لکھا ہوگا میرا نام
آخر چراغ شب ہوں، سحر کا نقیب ہوں!

پھول ذہنوں میں ہر حال کھلیں گے تازہ،
لاکھ یہ شاخ روایات سے بوجھل ہووے!

ظاہر ہے کہ یہ مثبت رویہ اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتا، جب تک کہ فرد انا پسندی اور خود پسندی کے خول سے باہر نکل کر اپنے آپ کو اجتماع انسانی کے ساتھ مربوط نہ کرے اور داخل کے محبس کو مسمار کرکے خارج کی لامحدود وسعتوں سے اپنی ذات کو ہم آہنگ نہ کرے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ ایک فرد کا غیر معمولی کارنامہ ہے اور ہرکس و ناکس اسے سرانجام دینے کی قدرت نہیں رکھتا۔ میں اس امر کی نشاندہی کرتے ہوئے یک گونہ خوشی محسوس کرتا ہوں کہ ریاض حسین چودھری نے’’ سر صلیب بدن‘‘ کی صورت میں اس کارنامے کی انجام دہی کا ثبوت فراہم کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم ان کی زبان سے بہت سے ایسے اشعار سنتے ہیں جو مرے اس دعوے کی تائید کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ مثلاً ریاض حسین چودھری اپنے ایک شعر میں کہتے ہیں:

اب کھلے موسم کے رنگوں سے بنائیں پیرہن
عمر بھر ہم نرگسیت کے خرابوں میں رہے!

ایک اور شعر کے وسیلے سے وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ
شب نے کھودی ہے مرے جسم میں پہلی خندق

میرے تکذیب ہی تعمیر کا عنواں ہو گی
پھر ایک اور غزل میں وہ کہتے ہیں:

ہر حال میں اونچا ہے مرے سر سے سمندر
ہر موج نے ساحل کی بشارت مجھے دی ہے

یہ بھی ہے ریاض اپنی ہی تعمیر کی صورت
کل رات جو بجلی ترے آنگن میں گری ہے

بعض مقامات پر وہ اپنے تجربات اور ان سے اخذ کردہ قیمتی نتائج کی روشنی میں اپنے مخاظبوں کو بھی ذات کی تنگناء سے چھٹکارا پاکر، کائنات کے بحرِ بیکراں سے اپنے آپ کو مربوط کرنے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ بصورت دیگر ان کی خلاقانہ صلاحیتوں کے ہلاکت کا امکان ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یذات کا یہ المیہ کائنات دوست افراد کے لیے کبھی قابل قبول نہیں ہوتا۔ اپنے مفروضات کی تائید میں صرف ایک شعر کی پیشکش کی اجازت چاہوں گا۔ ریاض حسین چودھری ایک جگہ کہتے ہیں۔

خود فریبی جو ہر تخلیق کو کھا جائے گی
ذات کے اندھے کنوئیں سے بھی نکل باہر کبھی

اس بات سے قطع نظر کہ یہ شعر ہمیں اس اہم حقیقت کا شعور عطا کرتا ہے کہ فرد کی خلاقیت اور اے ارتقاع سماجی علائق کا مرہون منت ہے اور اس کی شخصیت کی ہمہ گیر توسیع کا عمل کسی خانقاہانہ علیحدگی یا خلائی بے تعلقی کی موجودگی میں ظہور پذیر نہیں ہوتا اور یوں فن شاعری کے اس باطل نظریے پر ضرب کاری لگاتا ہے جو شاعر کو من ساگر میں ڈوب کر حقیقت کے موتی تلاش کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس شعر کے وسیلہ سے ہمیں ریاض حسین چودھری کے فنکارانہ اسلوب کا اندازہ بھی ہوتا ہے جو مخاطبین کو خطاب کے دوران میں اپنی خطابت کی اجازت نہیں دیتا بلکہ صرف ایسی سرگوشی کی گنجائش فراہم کرتا ہے، جس کی سرحدیں خود کلامی سے جاملتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اس شعر میں ہمیں ریاض حسین چودھری آگہی کے آئینہ کے روبرو اپنے عکس سے محو گفتگو دکھائی دیتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ اس آئینہ کے پس پشت ایک عالم ان کی اس گفتگو پر کان لگائے بیٹھا ہو۔ ریاض حسین چودھری کے اس اسلوب نے ان کی شاعری کو دھماکوں کی کیفیت سے محفوظ کرکے اس میں بہتی ہوئی ندی کا سبک آہنگ نمایاں کردیا ہے جس کی وجہ سے ریاض حسین چودھری کا ہر قاری محسوس کرتا ہے کہ ان کے اشعار اس کے کانوں کے پردوں کو پھاڑنے کی بجائے ان میں ایک ہلکا سا ارتعاش پیدا کرتے ہیں جو اس کے دل و دماغ تک پہنچ کر اس کی ایسی شخصیت کو مجتمع کردیتے ہیں جو آج کی جابر و قاہر معاشرتی قوتوں کے ہاتھوں ریزہ ریزہ ہوچکی ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ ریاض حسین چودھری کی زبان میں بے ساختہ پکار اٹھتا ہے کہ

میں تاش تاش بکھرا ہوا تھا افق افق
کس نے مجھے سمیٹ لیا آفتاب میں

ریاض حسین چودھری کے فنی تشخص کے ضمن میں آخری مگر اہم اور بیش قیمت بات یہ ہے کہ وہ ایک ایسے تخلیق کار ہیں جن کے ہاں اجتماع انسانی سے رابطہ کی اس صورت کا سراغ نہیں ملتا جسے بالعموم اس انسان دوستی سے موسوم کیا جاتا ہے جو ظالم و مظلوم، جابر و مجبور اور قاہر و مقہور کے درمیان فرق رو ارکھے بغیر تمام ابتائے آدم سے غیر مشروط محبت کی داعی ہے، اس کے برعکس ریاض حسین چودھری ایک ایسے فنکار ہیں جن کے اجتماعی علائق جانبدارانہ اور مبنی بر امتیاز ہیں، ان کی چاہت کے دائرے سے ظالم، جابر اور قاہر خارج ہیں اور ان کا پیار مظلوموں، مجبوروں اور مقہوروں سے مختص ہے، بہ الفاظ دیگر ان کی فنی وابستگی معاشرے سے غیر مشروط نہیں بلکہ اس کے زیریں طبقے سے مشروط ہے اور ریاض حسین چودھری نے اپنی اس وابستگی کا اظہار جابجا بڑے واضح اور دلاورانہ انداز میں کیا ہے۔ تین شعر آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔

اے زمین تیرے لب و رخسار کا ملبہ ہوں میں
اس صدی کے بھوکے ننگے فرد کا نوحہ ہوں میں

گندی نالی کے مکینوں کو اٹھانا ہوگا
اب انہیں شعر کا عنوان بنانا ہوگا

یہ فقط چہرہ نہیں کردار ہیں۔ ظاہر ہے ریاض حسین چودھری کے فن کی تحسین اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ ہم معاشرے کے اس زیریں طبقے سے ان کی مذکورہ خصوصی وابستگی سے آگہی حاصل نہ کرلیں جو تمام ثقافتی اور تہذیبی انقلابات کے عظیم سرچشمے کی حیثیت رکھتا ہے۔