میری شکست و ریخت کی جب ابتدا ہوئی- کلیات نعت

میری شکست و ریخت کی جب ابتدا ہوئی
دل کی زمیں پہ نفس کی پیدا ہوا ہوئی

پھر روح پر حواس کے دریا امڈ پڑے
گردابِ نفس کی نظر اپنی بقا ہوئی

کندہ ہے لوحِ جاں پہ مری معصیت کا غم
آقاؐ بدن کی رات بھی ہے ابتلا ہوئی

آقاؐ غمِ رضا سے ہے یہ مضمحل غلام
آقاؐ یہ مشتِ خاک کہ ہے گردِ رہ ہوئی

یہ دست و پا گواہ ہوئے جب مرے خلاف
شرمندگی کی دل میں قیامت بپا ہوئی

اب ٹوٹنے لگی ہیں طنابیں وجود کی
اب التجائے عفو ہے کالی گھٹا ہوئی

اشکوں سے دل کا داغ ابھی تک دھلا نہیں
لگتا ہے جیسے زندگی ساری خطا ہوئی

آقاؐ عطا کریں درِ رحمت کی چاندنی
وہ نور جس سے طلعتِ صبحِ ھدیٰ ہوئی

یہ کائنات آپؐ کی رحمت سے ہے رواں
سامانِ زیست آپؐ کی نگہِ عطا ہوئی

بن جاؤں ایک ذرۂ خاکِ درِ رسولؐ
مٹی مری کہ وقفِ حصولِ رضا ہوئی

آقاؐ مرے وطن میں بہت خون بہہ گیا
عنقا زمن کی آنکھ سے شرم و حیا ہوئی

بارود سے جھلس گئی آنگن کی ہر کلی
خوشبو کی آبرو سرِ مقتل ہوا ہوئی
بے کل ہے بیقرار ہے جھونکا نسیم کا
خوں رنگ آج شوخیٔ دستِ حنا ہوئی

معصومیت کا خون ہو یا خونِ آرزو
آہ و بکائے غم سے مکدّر فضا ہوئی

آقاؐ عطا کریں درِ اقدس پہ حاضری
آقاؐ جہاں میں زندگی محشر نما ہوئی

یہ تو عزیزؔ عفو و عنایت کی ہے سند
جو زندگی کہ وقفِ درِ مصطفیٰ ہوئی

*

پھر یادِ مصطفیٰؐ سے معطر فضا ہوئی
پھر مجھ کو حرف و صوت کی جنت عطا ہوئی

پھر صبحِ التفات سے روشن ہوا جنوں
پھر سوزِ غم سے وسعتِ جاں والضحیٰ ہوئی

پھر آبنائے شوق میں طوفان آ گیا
پھر آرزو کی ناؤ بھنور آشنا ہوئی

ٹانکے نسیمِ عشق نے ہر شاخ پر گلاب
پھر یاد کی مہک سے معطر فضا ہوئی

پھر چشمِ نم سے صبحِ فغاں نے کیا وضو
پھر کرب کی نماز ہوئی اور دعا ہوئی

پھر روح پاش لمحۂ یاد خطا ہوا
پھر انتہائے درد میں جاں مبتلا ہوئی

دل پھر غمِ رضائے نبی سے لرز اٹھا
سینے میں پھر کشاکشِ توبہ بپا ہوئی

پھر مضطرب ہوں روضۂ سرکارؐ کے لئے
ہے دید کی نماز تڑپتے قضا ہوئی

کیوں کر قرار آئے مدینہ گئے بغیر
اک بے بسی تو ہے مگر ایسی بھی کیا ہوئی
اے موجِ اشک! ساحلِ جاں تک بہا مجھے
طوفاں اٹھا کہ کشتیٔ دل تو فنا ہوئی

اے بادِ تند! تو ہی اڑا لے مرا وجود
سمجھوں گا میری خاک سپردِ صبا ہوئی

تو ہی سمیٹ لے مجھے، اے حرفِ آرزو!
تیری ندا کہ، طے ہے، مدینہ رسا ہوئی

رہتا ہوں مَیں تعاقبِ خوشبو میں رات دن
ہر برگِ گل چمن میں ہے محوِ ثنا ہوئی

اُنؐ کی ثنا میں صبح و مسا گم ہے کائنات
اہلِ ثنا کو قُرب کی دولت عطا ہوئی

جیسے طلوعِ فجر سے من جگمگا اٹھا
وہ روشنی کہ آپؐ کے در سے عطا ہوئی

برسی جو آنکھ بن کے مناجات کی گھڑی
زندہ عزیزؔ اِس سے ہے فصلِ رجا ہوئی

ہے انتظارِ اذن میں بیٹھا ہوا عزیزؔ
بیتابیٔ فراق ہے ہمت فزا ہوئی

*

مل جائے وہ مقام دیارِ حضورؐ میں
قلب و نظر چمک اٹھیں طیبہ کے نور میں
یا رب درِ حبیب پہ بخشش کی ہے دعا
تیری رضا کی آس ہے سارے امور میں