نعت کہنا تو پھولوں سے سیکھے کوئی- کلیات نعت

جشنِ میلاد کی جب خبر ہو گئی
رات بیتی، طلوعِ سحر ہو گئی
جس سے معمور پہنائے فطرت ہوئی
جوہرِ عشق نے ایک انگڑائی لی
اور گریباں ہوا چاک اظہار کا
سازِ فطرت کے عشقِ نبیؐ تار کا
صدقِ ایمانِ فطرت کا اظہار تھا

جشنِ میلاد یوں بھی منائے کوئی
یہ زمیں رونقوں سے سجائے کوئی
سارے عالم کو بخشی نئی زندگی
حسن کے سارے رنگوں کو عریاں کیا
ریگِ صحرا میں بھی پھول اگنے لگے
دہر میں ہر طرف تازگی آگئی
کونے کونے کو خوشبو نے مہکا دیا
رقص کرنے لگیں جھوم کر تتلیاں
اور پرندے خوشی میں نہانے لگے
جشن کے مدبھرے گیت گانے لگے
شہد چھتوں کا جوبن ٹپکنے لگا
سج گئے بام و در، جھوم اٹھے بحر و بر
ذرے ذرے پہ بس ایک تحریر تھی
سبز گنبد کی ہر سمت تاثیر تھی
پتہ پتہ چمکنے لگا نور سے
کوئی دینے لگا یہ صدا طور سے

جشن کرنا بہاروں سے سیکھے کوئی
چاک دامن نظاروں سے سیکھے کوئی

جشنِ میلاد یوں بھی منائے کوئی

ان ہواؤں کو دیکھو انہیں کیا ہوا
صبحدم دھیمے دھیمے مچلنے لگیں
وجد میں جھوم کر رقص کرنے لگیں
اپنے پاؤں کی جھانجھر جھٹکنے لگیں
قلبِ مضطر کی ان کو خبر ہو گئی
اپنے ہمراز کو آ کے چھونے لگیں
نعت کی لب پہ کلیاں چٹکنے لگیں
چھیڑ کر دل کے تاروں کو مہمیز سے
اپنے دامن کو مدحت سے بھرنے لگیں
اور درودوں کے گجرے اٹھانے لگیں
پتیاں نعت پھولوں کی چننے لگیں
باغ میں آئی ہو جیسے مالن کوئی
ہار لے کر سلامی کے چلنے لگیں
جشنِ میلاد کے گیت گاتے ہوئے
میری آنکھوں سے شبنم اٹھاتے ہوئے
میرے لب سے دعائیں چراتے ہوئے
فصلِ گل کی مہک کو اڑانے لگیں

موج در موج اٹھتی ہوئی دور تک
جشنِ میلاد سے وادیٔ نور تک
جشن کی محفلوں سے گذرتی ہوئی
جھومتے جھومتے وہ مدینے گئیں
سرجھکاتے ہوئے بابِ جبریل پر
پیش کرتے درود اور سلامِ ادب
پیارے آقاؐ کی چوکھٹ پہ بوسہ دیا
گنگناتی ہوئی آپؐ کی نعت کو
سبز گنبد کے چاروں طرف جھومتے
پیش کرتی سلامِ عقیدت اٹھیں
اور مینار کی اوج کو چھو لیا

دُھن میں رہ کر سبک اور خنک رنگ میں
حبِّ سرکارؐ میں عجز کے ڈھنگ میں
جشن کرنا ہواؤں سے سیکھے کوئی
نعت سننا ہواؤں سے سیکھے کوئی
محفلِ نعت گلشن میں سجنے لگی
رنگ مدحت کے شاخوں پہ آنے لگے
اور ہر پھول کے ہونٹ ہلنے لگے
بزم میں ہر کلی کی نئی تان تھی
ہر زباں سے ثنا کی مہک پھوٹتی
نعت خوشبو کے نغمے سناتی ہوئی
ہر طرف وردِ صلِ علیٰ کی مہک
سارے پھولوں کی تھی اپنی اپنی مہک

ہر کوئی اپنی خوشبو کے آہنگ میں
ہر کوئی اپنی اپنی قبا پہن کر
بزمِ مدحت کا اک کارواں بن گیا
ہر کوئی وجد میں اپنے ہی ذوق میں
بزمِ گلشن میں محوِ ثنا ہو گیا
طبعِ فطرت نے مدحت نگاری جو کی
رنگ شاخوں پہ نغمہ سرا ہو گئے
پھول مہکے، کلامِ وفا ہو گئے
جشن کرنا تو کلیوں سے پوچھے کوئی
نعت کہنا تو پھولوں سے سیکھے کوئی
مست و بے خود ہواؤں سے سیکھے کوئی
چاک دامن بہاروں سے سیکھے کوئی

چھوڑ کر بخل والا خزاں راستہ
دل میں حُبِ نبی کا یمِ بیکراں
شوقِ اظہار کا آبشارِ رواں
اپنی چشمِ ندامت کا ساماں کریں
صدقِ ایمان کا چاک دامن کریں
نعت سے دل کا روشن مدینہ رہے
حرفِ مدحت زباں پر نگینہ رہے
سبز لہجے میں انؐ کی ستایش کریں
سبز لہجے میں سب سے کریں گفتگو
سبز پرچم سے ہو سبز گنبد عیاں
امن کے راستے پر چلے کارواں
مدحتوں سے بنے وحدتوں کا جہاں
پھول کھلنے لگیں فکرِ ایثار کے
ہر طرف ہوں ہوائیں مواخات کی
ایسا ایثار جو مثلِ انصار ہو
آپؐ کے در پہ سب کی حضوری رہے
ایک امت کی نیّا کنارے لگے

پھول الفت کے سب ہم پرونے لگیں
اس پہ گجرے درودوں کے بھی ٹانک لیں
خود کو آقاؐ کی سیرت میں رنگنے لگیں
ڈوب جائیں سبھی ایک ہی رنگ میں
جشن میلاد کا یوں منانے لگیں

حسنِ فطرت ہمیں دیکھ کر کھِل اٹھے
ساری اس کی بہاریں، ہوائیں ہمیں
اپنے پہلو میں لے کر ہمیشہ چلیں
جشن کرنا بہاروں سے سیکھے کوئی
نعت کہنا تو پھولوں سے سیکھے کوئی

*