آرزوئے شوق کے سب کو دکھاتا ہوں گلاب- کلیات نعت

آرزوئے شوق کے سب کو دکھاتا ہوں گلاب
نعت کے مَیں جب بھی ہونٹوں پر سجاتا ہوں گلاب

اِن کے ہاتھوں سے نہ ٹوٹے، کانچ ہے اُنؐ کا اَدَب
اپنے بچوں کو ہمیشہ میں پڑھاتا ہوں گلاب

ساتھ ہوتے ہیں ملائک سامعینِ محترم
بارگاہِ لطف میں جب مَیں سناتا ہوں گلاب

مدحتِ خیرالوریٰؐ سے مہک اٹھتا ہے چمن
صبحدم شاخِ زباں پہ جب کھِلاتا ہوں گلاب

اُنؐ کے در پر سر جھکاتا ہوں بصد عجز و ادب
اُنؐ کے ہر رنگِ کرم کے لے کے آتا ہوں گلاب

آخرِ شب چشمِ تر کی شبنمی برسات میں
عشق میں بھیگے درودوں کے اگاتا ہوں گلاب

کیسے پھیلاتی ہیں خوشبو باغ کی تزئینِ کو
جب ہواؤں کو محبت کے پلاتا ہوں گلاب

مجھ پہ دہلیزِ نبی کا ہوتا ہے اس دم طلوع
کِشتِ فن میں نعت کے جب بھی لگاتا ہوں گلاب

پڑھنے لگ جائیں گے خوشبو آپؐ کے اخلاق کی
نغمۂ مدحت سے بستی میں جگاتا ہوں گلاب

جامِ سیرت پی کے اتریں زندگانی میں عزیزؔ
نعت کے میں اس لئے سب کو سکھاتا ہوں گلاب

*