دنیا کی آرزو ہے نہ نمود کی طلب ہے- کلیات نعت

دنیا کی آرزو ہے نہ نمود کی طلب ہے
مرا نام ہے ملامت، مرا دل خطا نسب ہے

مجھے خواہشوں نے گھیرا، مجھے لذتوں نے مارا
میرا طُربیہ عجب ہے، میرا اَلَمیہ عجب ہے

خوفِ گناہ گاری، میرا چین آہ و زاری
مری جستجو مدینہ، مری آرزو ادب ہے

مرا غم تری رضا ہے، یہی غم مری خوشی ہے
اسی غم سے دن ہے روشن تابندہ میری شب ہے

ہے جان سے گزر کر تری دید تک رسائی
یونہی بے قرار جینا بھی قرار کا سبب ہے

ہیں کچھ اہلِ دید وہ جو تری دید کر رہے ہیں
ہیں کچھ انتظار میں وہ جنہیں دید کی طلب ہے

ہوں میں حشر کا مسافر نہیں پاس زادِ رہ بھی
نگہِ کرم ہو آقا یہ غلام جاں بلب ہے

محوِ درود نوری، محوِ ثنا دوعالم
ارض و سما کا موسم، تعظیم ہے ادب ہے

درِ مصطفیٰؐ کی جنت کے عزیز موسموں میں
تسکینِ جاں میں ڈوبا پیمانۂ طلب ہے

*