راہِ وفا سے کوچۂِ دلبرؐ قریب ہے- کلیات نعت

راہِ وفا سے کوچۂِ دلبرؐ قریب ہے
شامِ ندا سے صبحِ مبشر قریب ہے

خوشبو سے آستانۂِ گل چار گام ہے
حرفِ ثنا سے لطفِ پیمبرؐ قریب ہے

وہ سامنے ہے منزلِ دہلیزِ مصطفیٰؐ
بیتاب ہوں کہ موجۂ کوثر قریب ہے

ہے بے نوا کی آپؐ سے قربت کی التجا
مولیٰؐ! مدد! کہ آخرت کا گھر قریب ہے

توبہ کہ اشکہائے ندامت سے ہے کشید
دامن ہے تر کہ لمحۂ محشر قریب ہے

طوفِ ثنا میں آپ کا احرام ہے ادب
پہنو ادب کہ روضۂ اطہر قریب ہے

مولیٰ! وطن کی آبرو شعلوں کی زد میں ہے
چشمِِ کرم کہ ساعتِ ابتر قریب ہے

اے دستِ غیب! وحدتِ ملت ترے سپرد
ظالم کا ہاتھ رگ پہ ہے نشتر قریب ہے

عشقِ نبیؐ ہی قوم کا سّرِ حیات ہے
محبوبِ حق کی رحمتوں کا در قریب ہے

جوبن پہ ہے بہارِ گلستانِ آرزو
وہ بارگاہِ شافعِ محشرؐ قریب ہے

مولا دعائے عفو و عنائت قبول ہو
میرے عمل کا مجھ سے مقّدر قریب ہے

طوفانِ رنگ و بو میں ہوں مانجھی ہے چشمِ تر
ساحل ہے دور، شام کا منظر قریب ہے

نکلی جو اشک بن کے تری التجا عزیزؔ
اس پر نزولِ بخششِ داور قریب ہے

*

ہوس کی آتشِ سوزاں نے آ لیا مجھ کو
انائے چاک گریباں نے آ لیا مجھ کو
ہے تار تار مرا دامنِ جنونِ وفا
حرم سے نکلا تو شیطاں نے آ لیا مجھ کو

*