فردیات- ورد مسلسل (2018)

فردیات

مرا اعزاز دیکھو دور رہ کر بھی مدینے سے
مدینے کی ہواؤں سے مخاطب ہوتا رہتا ہوں

*

تصور میں پہنچ جاؤں گا شہرِ نور و نکہت میں
بڑھاپا کیا مرے عزمِ جواں کی راہ روکے گا

فردیات

سانس کی ڈوری الجھتی جا رہی ہے یا نبی ﷺ
ایک جھونکا خلدِ طیبہ کی ہوا کا چاہیے

*

عمر بھر نعت کے دامن میں بنائی جو ریاضؔ
سب فریموں میں وہ تصویر سجا دی جائے

*

پوچھتے ہیں عَدْل کی میزان سے جانِ ریاضؔ
بجھ گئی ہے تیرے اندر کی اچانک روشنی؟

*

رخصت سے قبل اے خدا! مہلت مجھے ملے
توبہ کا در کھلے مری شہ رگ سے بھی قریب

فردیات

تخیل کے پرندے اب بتا تُو ہی مدینے میں
خدا سے تاجِ مدحت کے سوا مَیں اور کیا مانگوں

*

یہ لمحے جن کے دامن میں ثنا گوئی کی خوشبو ہے
وہ جب چاہے، جسے چاہے، عطا کر دے وہ مالک ہے

*

مری زندگی کے یہ دن آخری ہیں
مجھے نعت کہنے کی حسرت رہے گی

*

صبا رختِ سفر باندھے کھڑی ہے منتظر آقا ﷺ
ارادہ اس برس بھی خلدِ طیبہ کے سفر کا ہے

*

گن رہا ہوں ساعتیں عمرِ رواں کی آخری
ایک اک لمحہ بسر سرکار ﷺ کے قدموں میں ہو

*

چراغِ آرزو ہم نے جلا رکھا ہے برسوں سے
صبا پیغام لے کر حاضری کا آج آئے گی

*

خداوندِ عالم! قیامت کے دن بھی
مدینے میں رہنے کو جی چاہتا ہے

*

آپ ﷺ کے اسمِ گرامی کے طفیل
مشکلیں آسان ہوں میری، حضور ﷺ

*

دامنِ خیرالبشر سے ہو کے وابستہ ریاضؔ
سایۂ ابرِ کرم میں عمر بھر ہم بھی رہے

*

ایک اک سانس میں توحید کا اترے سورج
زندگی عشقِ پیمبر ﷺ کے سوا کچھ بھی نہیں

ء

پھول سے لمحے مرے آنگن میں اترے ہیں ریاضؔ
چاند سی صبحیں گلستاں میں کھلاتی ہیں گلاب