میرے پاکستان کو سچ مچ کا پاکستان کر- ریاض حمد و نعت

قریۂ عشق محمدؐ کا مجھے سلطان کر
یعنی قصرِ شاہ کا ادنیٰ سا اک دربان کر

ہر گھڑی مصروف رکھ مدحت نگاری میں مجھے
نعت کی تخلیق کا ہر مرحلہ آسان کر

خوشبوئوں نے آج بھی باندھا ہے سامانِ سفر
شہرِ سرکارِ دو عالمؐ کا مجھے مہمان کر

ہر قدم پر عظمتِ ماضی کی چمکے روشنی
میرے پاکستان کو سچ مچ کا پاکستان کر

داخلی ہر راستہ مسدود ہے میرے خدا!
آج بھی جاری زمیں پر آج کا فرمان کر

اس کو بھی برجِ تکبر سے کبھی نیچے اتار
آج کے فرعون کو تُو آج کا انسان کر

اپنے بچّوں کو وراثت میں مَیں دوں گا آفتاب
مجھ کو بھی یارب! غلامِ صاحبِ قرآن کر

ناسمجھ! سورج ہتھیلی پر غلامی کا سجا
نعت لکھ کر اہلِ فن کو آج بھی حیران کر

آسمانی ہر صحیفے میں محاسن آپؐ کے
تُو کتابِ زندگی کا، آپؐ کو عنوان کر

دامنِ دل میں سجا نقشِ قدم سرکارؐ کے
اپنی بخشش کا ریاضِ خوشنوا سامان کر

قطعہ

نور کی کرنیں بکھیرے چاند تاروں کا ہجوم
جھوم کر ہر سمت سے آتی رہے بادِ خنک
میرے پاکستان کے کوہ و دمن پر یا خدا!
آسماں سے پھول برساتی رہے بادِ خنک