کیا رتجگا ہے وادیٔ مدحت نگار میں- ریاض حمد و نعت

کیا رتجگا ہے وادیٔ مدحت نگار میں
رکھتی ہے سات رنگ، دھنک، آبشار میں

اب کے برس بھی اذنِ ثنائے نبیؐ ملا
بکھری ہوئی انا ہے زرِ انکسار میں

فکر و نظر کے قافلے لوح و قلم کے ساتھ
کاسہ بکف کھڑے ہیں کرم کے حصار میں

ہر ہر ورق پہ گنبدِ خضرا بنائوں گا
ہر ہر ورق ہے حلقۂ صد افتخار میں

طیبہ کی سر زمین منوّر سے آج بھی
خوشبو چراغ لائی ہے شہرِ غبار میں

ہر دور انحطاط سے ناآشنا رہا
میرا قلم ازل ہی سے ہے اقتدار میں

ادراک روشنی کے سفر کا نہیں مجھے
ڈھونڈوں نبیؐ کے نقشِ قدم رہگذار میں

لائی ہے تُو پیام صبا، مرحبا مگر
لذت عجیب سی ہے شبِ انتظار میں

برسیں، حضورؐ، کالی گھٹائیں سرِ چمن
پھر آشیاں جلا ہے کسی کا بہار میں

کس نے ابھی ابھی لیا محشر میں میرا نام
کیا مجھ سا بے ہنر بھی ہے آیا شمار میں

رعنائیِ خیالِ نبیؐ کے سوا ریاضؔ
کچھ بھی نہیں ہے دامنِ لیل و نہار میں

*