پوشاکِ حرفِ نعت، زرِ سرمدی کی ہے- ریاض حمد و نعت

پوشاکِ حرفِ نعت، زرِ سرمدی کی ہے
چادر ہوا کے سر پہ اِسی روشنی کی ہے

لکھّوں گا مَیں خطوط میں احوال سب، حضورؐ
زندہ یہ رسم آج بھی نامہ بری کی ہے

یارب، وہ جلد میرے افق پر طلوع ہو
جو ساعتِ عزیز مری حاضری کی ہے

جس کی تلاش میں ہے ہجومِ مہ و نجوم
وہ روشنی تمام اُنہیؐ کی گلی کی ہے

صد شکر، ہے حضورؐ کی چوکھٹ سے رابطہ
خوشبو، قلم کی شاخ پہ وابستگی کی ہے

کیسے بھٹک سکے گا مرا راہوارِ عشق
قندیل ہر قدم پہ شبِ آگہی کی ہے

ہر لحظہ لب پہ صلِّ علیٰ کے جلیں چراغ
صورت یہی تو قبر میں آسودگی کی ہے

چنتی رہے گلاب مدینے کی راہ سے
یہ آرزو ازل سے مری شاعری کی ہے

انبار سیم و زر کے مبارک انہیں ریاضؔ
دولت ہمارے پاس بھی حُبِّ نبیؐ کی ہے

ایک شعر

بڑھاپے میں بھی کب تنہا مجھے قدرت نے رکھا ہے
مَیں پہروں گفتگو کرتا ہوں اپنی کلکِ مدحت سے

*