ریاض حسین چودھریؒ کی نعت گوئی … نوید صادق- روشنی یا نبی ﷺ (2018)

نعت گوئی بقول عرفی شیرازی، تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہے کہ جس محبوب کی مدح خود خالقِ کائنات کر رہا ہے، انسان کی بساط ہی کیا ہے کہ اس ذاتِ اقدس کی مدحت کا حق ادا کر پائے، پھر بھی اس باب میں دفتروں کے دفتر ملتے ہیں۔ کہیں سیرتِ پاک ﷺ کا بیان ہے تو کہیں فرمودات و سنتِ نبوی کی ترسیل کی کوشش نظر آتی ہے، اور عہدِ موجود میں تو نعت (قصدِ نعت ہی کے ضمن میں) استغاثہ یا کیفیاتِّ حضوری و محرومی کی ترجمان نظر آتی ہے، جہاں بساطِ انسانی کی کم مائیگی کے سبب توصیف سے زیادہ تالیفِ قلب کا عنصر دل کشائی و دل افروزی رکھتا ہے۔ ریاض حسین چودھری کی نعتوں میں یہ عنصر بھی اپنے فکری دروبست کے ساتھ نمایاں تر ہے۔
نعت گوئی کی روایت عربی فارسی سے ہوتی ہوئی اردو کے حصہ میں آئی ہے۔ اردو میں کم و بیش ہر شاعر کے ہاں نعتیں ملتی ہیں، یہاں تک کہ بعض غیر مسلم شعرا بھی آپ ﷺ کے انسانیت نواز پیغام اور انقلاب آفریں شخصیت سے متاثر ہوئے اور بعض ہندو شعرا نے تو اپنے اخلاق و عمل اور خلوصِ فکر کے ثبوت میں کئی کئی نعتیں لکھیں۔

اُردو شاعری کی تاریخ پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو بعض ایسے صاحبانِ کمال ملتے ہیں جنھوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا ہی نعت کو بنائے رکھا۔ ان میں سے بیشتر کی بنیادی تربیت غزل ہی سے ہوئی لیکن رفتہ رفتہ انھوں نے دیگر اصنافِ سخن کو خیرباد کہہ کر صرف اور صرف نعت کی طرف اپنی توجہ مرکوز کر لی۔ ایسے شعرائے کرام کے نام گنوانے بیٹھیں تو یقیناً ایک طویل فہرست بنتی ہے مگر یہاں خارج از موضوع ہے کہ چند باتیں ریاض حسین چودھری کی نعت گوئی کے حوالے سے کہنا چاہتا ہوں۔ نعت گوئی کی وسیع تر روایت کے حوالے سے صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ جن شعرا نے اپنے فن و فکر کا محور نعت کو بنا لیا، ریاض حسین چودھری بھی ان میں سے ایک ہیں، اور یہی نہیں بلکہ ان میں نمایاں مقام اور شہرت رکھتے ہیں کہ انھوں نے اردو نعت گوئی کے فروغ میں اپنا کردار بڑے مؤثر انداز میں نہ صرف نبھایا بلکہ نعت کو جدید تر اسلوب میں متعارف کروانے میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے۔

حسبِ سابق ریاض حسین چودھری مرحوم کا زیرِ نظر مجموعہ بھی نعتیہ نظموں پر مشتمل ہے۔ گو کہ سیرتِ پاک ﷺ کے حوالے سے لطیف پیرایۂ بیان میں اشارے بھی ملتے ہیں لیکن اس کتاب میں شامل نظموں پر ایک طائرانہ نگاہ ہی یہ واضح کرنے کو بہت ہے کہ ریاض مرحوم ایک تو اپنے اردگرد پھیلی جہل کی تاریکیوں، مسلم امہ کی اسوۂ حضور ﷺ سے دوری اور دوم سیرتِ مطہر کی روشنی سے ان تاریکیوں کو دور کرنے کے آرزو مند ہیں۔ نظم ’’منظرِ شب‘‘ کا اختتامی بند دیکھیے:

جھپٹ پڑے ہیں اندھیروں کے غول بستی پر
دیے جلانے کا منصب سنبھالنا ہو گا
نقوشِ پاے نبیؐ سے چراغ لے لے کر
شبِ سیاہ کا چہرہ اجالنا ہو گا

(منظرِ شب)

نظم کا عنوان ہی میری بات کی تائید کرتا نظر آتا ہے، پھر شاعر نے اپنی صورتِ احوال کا بیان کیا جو ظاہر ہے صرف شاعر سے مخصوص نہیں، ہم سب مسلمان اسی عالمِ جبر و کرب سے گزر رہے ہیں۔ ایسے میں تمام بیان کے بعد درپیش صورتِ احوال میں درستی کا واحد راستہ اُسوۂ رسول ﷺ پر عمل پیرا ہونا ہے اور اس سے بھی کہیں زیادہ اہم دوسرے لوگوں کو اس بات پر مائل و قائل کرنا ہے کہ ہمارے لیے یہی ایک راستہ ہے جو ہمیں مسلط تاریکیوں سے نکال لے جا سکتا ہے۔ اس پر ایسے فرسودہ اوررنجیدہ عالم میں اُسوۂ رسول کے سائے سائے آگے بڑھنے اور عظمتِ رفتہ کے حصول کا ولولہ اور مصمم ارادہ بھی بین السطور شاعر کے لب و لہجہ سے مترشح ہے۔

زیرِ نظر مجموعۂ نعت میں شامل کلام میں دعائیہ پیرایہ غالب نظر آتا ہے۔ یوں تو نعت گوئی و نعت خوانی کے بنیادی محرکات محبوبِ خدا حضرت محمد ﷺ کی ذاتِ اقدس سے عقیدت اور اللہ کی خوش نودی کا حصول ہی ٹھہرتے ہیں لیکن دکھی دل کی آواز نعت گوئی کے باب میں ایک عجیب اثر انگیزی کا موجب ثابت ہوتی ہے۔ انسان مصیبت میں گھبراتا ہے.... لیکن یہاں ہم اگر ایک سچے مسلمان کی بات کریں اور وہ سچا مسلمان جس کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا ہی حبِ نبی ﷺ ہو، وہ موافق صورتِ احوال میں اللہ کی عظمتوں کے گن گاتا ملتا ہے، رحمتوں کے نزول پر شکرانے کے گیت گاتا ہے، رسولِ پاک ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کے وصف بیان کرتا ہے، آپ کی ذاتِ پاک کے وسیلہ سے موافق صورتِ احوال میں تسلسل اور ترقی کا آرزومند رہتا ہے۔ اس صورتِ احوال کے برعکس جب اسے عوائقِ دنیاوی کا سامنا ہوتا ہے تو وہ بارگاہِ خداوندی میں اپنے لیے روشنی طلب کرتا ہے، خیر ہی خیر کا آرزومند نظر آتا ہے۔ اور یہ روشنی، یہ خیر اسے آپ ﷺ کی سیرتِ پاک کو اپنانے سے حاصل ہوتی ہے۔ چند نظموں سے کچھ مصرعوں، کچھ شعروں، کچھ بندوں سے اپنی بات کی تائید چاہوں گا:

میں منافق ساعتوں میں سانس لیتا ہوں حضورؐ
میرے دامن میں چراغِ آرزو جلتے نہیں
(آرزوے سحر)

وقار و عظمتِ اِنساں کا کچھ سوال نہیں
رداے حفظِ مراتب اٹھائی جاتی ہے
(ڈپریشن کے حوالے سے ایک حمدیہ/نعتیہ نظم)

سرکارؐ، اندھیرا ہی اندھیرا ہے گلی میں
سرکارؐ، ابھی دھوپ کے جنگل میں کھڑا ہوں
(سرکارؐ)

بصرے میں آنسوؤں کی تدفین ہو چکی ہے
موصل گرا پڑا ہے، فریاد، یانبی جیؐ
(فریاد)

حضورؐ، اہلِ ہوس کو نگارخانے میں
متاعِ اشکِ ندامت نہ لوٹنے دوں گا
ہواے جبر چلے لاکھ میرے آنگن میں
کبھی بھی ضبط کے بندھن نہ ٹوٹنے دوں گا
(حضورؐ! آج بھی آنسو رقم ہیں ہاتھوں پر)

محشر کی گھڑی آئی
اس دھوپ سے کیا ڈرنا
رحمت کی گھٹا چھائی
(نعتیہ ماہیا)

ہر طرف محرومیوں کا ہے دھواں بکھرا ہوا
گھر کے اندر تیرگی ہے، گھر کے باہر تیرگی
آج کا انسان گم ہے ظلمتِ آفاق میں
روشنی ہو، روشنی ہو، روشنی ہو روشنی
(آرزوے سحر)

آؤ مرے حضورؐ کے فرمان کی طرف
دامانِ آرزو میں کھلیں گے ثنا کے پھول
صلِّ علیٰ کا ورد کرے گی کلی کلی
ہونٹوں پہ رقص کرنے لگیں گے دعا کے پھول
(آؤ مرے حضورؐ کے فرمان کی طرف)

لَو لَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الاَفلَاکَ کی روایت کے مطابق جس ذاتِ پاک کے بارے میں کائنات کے خالق کا یہ کہنا ہو کہ اگر اس ذات کو پیدا نہ کیا جاتا تو کائنات کو بھی پیدا نہ کیا جاتا، اس ذاتِ اقدس کی ثنا انسان بلکہ کائنات کی ہر ہر شے پر گویا فرض ٹھیرتی ہے کہ صَلُّوْا عَلِیْہِ وَسَلِّمْوا تَسْلِیمَا تو حکمِ قرآنی بھی ہے اور کہنا تو یوں چاہیے کہ کائنات کی ہر شے کو ہمہ وقت اس ذاتِ اقدس کا شکرگزار رہنا چاہیے کہ اگر آپ ﷺ کا دنیا میں تشریف لانا لازم نہ ٹھیرتا تو پھر کوئی بھی شے معرضِ وجود میں نہ آتی۔ یوں اللہ سے کچھ مانگنا ہے تو اللہ کے محبوب سے مانگا جا رہا ہے، یا پھر ان کے وسیلہ سے مانگا جا رہا ہے اور جذب و کیف کا یہ عالم ہے کہ …مولانا احمد رضا خان بریلوی کا ایک شعر یاد آ گیا:

طیبہ میں مر کے ٹھنڈے چلے جاؤ آنکھیں بند
سیدھی سڑک یہ شہرِ شفاعت نگر کی ہے
(احمد رضا خان بریلوی)

ایک عاشقِ صادق کے لیے اس سے بڑھ کر سعادت کی کیا صورت نکل سکتی ہے کہ اسے اپنے محبوب کے دیار میں جانا نصیب ہو، وہاں رہایش نصیب ہو۔ جبھی تو ریاض حسین چودھری کے دل میں یہ خواہش انگڑائیاں لینے لگتی ہے کہ:

صدیوں غبارِ شہرِ پیمبرؐ میں گم رہوں
(آرزوئے والی کونینؐ)

ریاض کے ہاں نہ صرف دکھی دل کی پکار، حالات کی سنگینی پر سرکارِ دوعالم ﷺ کے وسیلہ سے اللہ کے حضور خیر کی دعائیں ملتی ہیں بلکہ اپنی نعت گوئی کے حوالہ سے تفاخر کا پہلو بھی نظر آتا ہے۔ آپ اپنی سہولت کے لیے اسے تعلّی کہہ سکتے ہیں لیکن نعت کے باب میں تعلّی کو کیا دخل، سو ریاض مرحوم کے ہاں اس تعلّی کے پسِ پشت عجز و انکسار میں رچا بسا لہجہ ملتا ہے۔ گویا اس در کی چاکری پر فخر کا اظہار ہے جو بجاطور پر ایک سچے مسلمان اورایک راسخ العقیدہ نعت گو کو زیبا ہے:

جب دمِ پرسش لحد میں آؤ گے منکر نکیر!
ہم تمھارے ہاتھ پر رکھیں گے اک ایسی کتاب
جس میں ہوں گے مدحتِ سرکارِ دو عالم ؐ کے پھول
جس میں ہوں گے سب ہماری التجاؤں کے گلاب
(دمِ پرسش)

حرفِ درود لب پہ کھلا ہے، کھلا رہے
منصب ثنا کا حشر کے دن بھی ملا رہے
(منصب ثنا کا حشر کے دن بھی ملا رہے)

اقسامِ نعت کی بات کی جائے تو ریاض حسین چودھری کے ہاں وصفی اندازِ بیان کے ساتھ ساتھ حضور ﷺ کی ذاتِ پاک سے شیفتگی و عقیدت بھرپور انداز میں ملتی ہے، لیکن ریاض حسین چودھری کی نعتیہ نظموں کے اس مجموعہ میں مقصدی نعت کا پہلو غالب ہے۔ مقاصد کو دیکھا جائے تو اس مجموعۂ نعت کی حد تک ذاتی، معاشرتی، قومی، ملی اور آفاقی مقاصد کو محیط نعتیہ نظمیں زیادہ تعداد میں ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیے:

صبا آئے تو اس کو نرم لہجے میں بتا دینا
’’غلامانِ محمدؐ کا حصارِ آہنی ہے یہ
وطن کے واسطے جتنی بھی ممکن ہو، دعا لکھنا‘‘
(قریۂ نسبتِ محمدیؐ)

حسرتیں میرے دامن سے لپٹی ہوئی، میری قسمت میں محرومیاں ہیں رقم
یا حبیب ِ خدا، یا رسولِ امیںؐ! میرے احوال پر بھی ہو چشمِ کرم
(دھوپ ہی بن گئی ہے مرا سائباں)

بغداد جل رہا ہے فریاد، یانبی جیؐ
ہر سَمت کربلا ہے فریاد، یانبی جیؐ
(فریاد)

حشر سا حشر برپا ہے چاروں طرف
ارضِ کشمیر جلتا ہوا زخمِ جاں
(استغاثہ)

حضورؐ، اُمّتِ عاصی کا حال کیا لکھوّں
اک اضطرابِ مسلسل ہے فاختاؤں میں

فضا میں سبز پرندے نظر نہیں آتے
حضورؐ، آپؐ کی اُمّت ہے کربلاؤں میں
(فریاد بحضور سرورِ کونین) ؐ

اسی تناظر میں اکتوبر 2005ء کے قیامت خیز زلزلے کے حوالہ سے کہی گئی نظم’’ہوا رو پڑی ہے‘‘ خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔

ریاض حسین چودھری کی نعتیہ نظموں کا یہ مجموعہ، اصناف سے موضوعات تک دل کشی و رعنائی سمیٹے ہوئے ہے اور بالیقیں یہ فنِ شعر بالخصوص بابِ نعت سے وابستہ افراد کے لیے ایک نادر و نایاب تحفہ سے کم نہیں۔ خدا کرے یہ مجموعہ دربارِ رسالت مآب ﷺ میں شرفِ قبولیت حاصل کرے اور ریاض حسین چودھری (مرحوم) کی بخشش کا سامان بہم کرے۔

نوید صادق