لوح و قلم پہ اترا فروغِ ثنا کا نور- کلیات نعت

لوح و قلم پہ اترا فروغِ ثنا کا نور
شہرِ سخن پہ برسا درِ مصطفیٰ کا نور

روشن ہوئے چراغ درود و سلام کے
آنکھوں میں تیرنے لگا اُنؐ کی رضا کا نور

جھونکا سا تھا بہارِ مدینہ کا صبحدم
سارے چمن میں پھیل گیا پھر صبا کا نور

صلِّ علیٰ کہ حسنِ سراپا کے ذکر نے
والیل و والضحیٰ میں دکھایا خدا کا نور

اٹھی نظر تو سامنے بیتِ عتیق تھا
لرزہ سا بن کے پھوٹ پڑا التجا کا نور

انجام کار آپ کے در پر پڑا رہوں
رگ رگ میں دوڑتا ہے مری اس دعا کا نور

جاری طوافِ ذکر ہے ہر دم زبان پر
اترا ہوا ہے کعبۂ دل میں ثنا کا نور

کیسے رُکوں گا، معرکۂ جاں پہنچنا ہے
دہلیزِ مصطفیٰ سے ہے ملتا بقا کا نور

آقاؐ بہت کریم، رؤف و رحیم ہیں
مجھ کو عطا کریں گے قبولِ دعا کا نور

ظلمات سے گذرتا ہے محشر کا راستہ
ضامن فقط ہے راہ میں صدق و صفا کا نور

اُنؐ کے درِ سخا کا گدا ہوں ازل سے میں
کشکولِ زندگی میں ہے اُن کی عطا کا نور

ارواحِ برگزیدہ بھی محوِ طواف ہیں
پیہم مطاف میں ہے رواں مصطفیٰؐ کا نور
صبحِِ ثنا سے سینۂ گلشن ہوا بہار
ہر برگِ گل سے پھوٹا ہے مہر و وفا کا نور

لوحِ جبیں پہ نقش ہے جب سے حرم کا لمس
سینے میں جھلملاتا ہے حرفِ لقا کا نور

تسلیم ہے عزیزؔ رہِ حق کی جانکنی
تسلیم کے سفر میں ہے فجرِ رضا کا نور

*

رحمتوں کے دیار میں آیا
نوریوں کے حصار میں آیا
عمر بیتی ہے اور اب جا کر
میں خزاں سے بہار میں آیا