اُنہیؐ کے در پہ گرو جس طرح سے ہو اب بھی- کلیات نعت

اُنہیؐ کے در پہ گرو جس طرح سے ہو اب بھی
کہ ایک سانس کی فرصت ہے دوستو اب بھی

ہوائے نعت ہے گل رنگ موسموں کی نقیب
درِ سخن پہ کھڑی ہے بہارِ نو اب بھی

یہ نعت خالقِ لوح و قلم کی سنت ہے
کتابِ عشق کی آیات کو پڑھو اب بھی

ردائے اسم محمدؐ سے چھو کے چلتی ہے
نسیمِ خلد مدینہ ہے مست رو اب بھی

حضورؐ قطرے کو دریا کی وسعتیں دیں گے
گدائے کوچۂ رحمت، صدا کرو اب بھی

یہ تیرگی تو پہن لی ہے پے بہ پے مَیں نے
حریمِ نور سے کچھ چاندنی کرو اب بھی

یہ روشنی سی جو باقی ہے کاسۂ سر میں
کچھ اس طرح ہو کہ صرفِ کتاب ہو اب بھی

گرا ہوں قعرِ مذلت میں، کور دیدہ تھا
نگاہِ عفو عطا ہو غلام کو اب بھی

نڈھال کر گیا طوفان رنگ و بو مجھ کو
اے شاہِ فقر! تنفس اجال دو اب بھی

غم رضائے نبیؐ کی تھی چودھویں کل رات
ہجومِ شوق ہے پلکوں پہ محوِ ضو اب بھی

عزیزؔ ٹوٹنے والا ہے اب حصارِ بدن
وجود وقفِ درِ مصطفیٰؐ کرو اب بھی

*