لطف و کرم کے ارض و سماوات دے مجھے- ریاض حمد و نعت

شر کا ہدف ہوں، خیر کی سوغات دے مجھے
امن و سکوں کے ریشمی لمحات دے مجھے

نورِ حطیم و اسود و میزاب و ملتزم
ابرِ منیٰ و حسنِ مساوات دے مجھے

صدیوں سے خشک ہیں ندی نالے شعور کے
علم و ہنر کا موسمِ برسات دے مجھے

پتھر کا دور گرچہ ابھی تک جلو میں ہے
ریشم سے بڑھ کے نرم تُو جذبات دے مجھے

ہر وقت تیری یاد کے جلتے رہیں چراغ
توفیق بندگی کی تُو دن رات دے مجھے

دامن مری لغات کا محدود ہے بہت
مَیں کم نوا ہوں، لفظِ مناجات دے مجھے

آسودگی کے پھول مَیں بانٹوں گلی گلی
ایسے بھی، یاخدا! کبھی حالات دے مجھے

یارب! ترے نبیؐ کے غلاموں کا ہوں غلام
لطف و کرم کے ارض و سماوات دے مجھے

حُبِّ نبیؐ کی جن میں دھنک پرفشاں ہوئی
اصحابِؓ مصطفیٰؐ کی وہ عادات دے مجھے

خلدِ بریں کا حال سنوں جھوم جھوم کر
حور و ملک سے اذنِ ملاقات دے مجھے

دونوں جہاں میں دے مجھے صدقہ حضورؐ کا
نقشِ قدم کی آج بھی خیرات دے مجھے

سردارِ انبیا کی لکھوں روز و شب ثنا
یارب! تمام حسن کی آیات دے مجھے

نسبت کی چاندنی مرے گھر میں رہے مقیم
مولا! شعورِ عظمتِ سادات دے مجھے

تیری عطا کے نقرئی سکوّں سے ہر گھڑی
لبریز ہو جو کاسۂ حاجات دے مجھے

تہذیبِ نو کے آئنے بے نور ہیں سبھی
ریگِ عرب کے چاند سے ذرّات دے مجھے

ہے التجا ریاضؔ کی پروردگار سے
دنیا میں مغفرت کی علامات دے مجھے

قطعہ

اپنے بندوں کو تُو دے اپنے تحفظ کی ردا
اپنے بندوں کے مقدّر کو ستاروں سے اجال
اپنے بندوں پر کرم کی بارشیں دن رات کر
اپنے بندوں کو حصارِ ظلمتِ شب سے نکال