تیری رحمت کے خزانوں میں کمی کیا آئے گی- ریاض حمد و نعت

رحم فرما، رحم فرما مالکِ لوح و قلم
فضل فرما، عاصیوں کی منتظر ہے چشمِ نم

تیری رحمت کے خزانوں میں کمی کیا آئے گی
کر ہمارے حال پر بھی یاخدا! اپنا کرم

کشتیٔ امید رہتی ہے بھنور میں کیا کریں
کیا ہمارے ہی لیے ہیں سارے دکھ سارے ستم

آج بھی گھر کے دریچوں میں نہیں ہے روشنی
آج بھی اونچی ہوئی ہے ظلمتِ دیوارِ غم

آج بھی محرومیوں کی پائوں میں زنجیر ہے
آج بھی اپنی جبینوں پر ہے ناکامی رقم

کیا سوا نیزے پہ ہی سورج رہے گا یاخدا
عافیت کا سائباں سر پر نہیں رکھتے ہیں ہم

حسن تھا جتنا سماعت کا اکارت ہوگیا
کیا سرورِ صبحِ نو، کیا روز و شب کا کیف و کم

لحظہ لحظہ برف کی نائو میں کرنوں کی تپش
لمحہ لمحہ کربِ تنہائی میں طوفاں یم بہ یم

تیری رحمت پر بھروسہ ہے فقط ربِّ کریم
عاجز و مسکین بندوں کا بھی رکھ لینا بھرم

اے خدا! اب تو تحفظ کی ردا پائے ریاضؔ
مضطرب رکھتا ہے اس کو بھی ہوا کا زیر و بم

ثلاثی

جتنے انساں تُو نے پیدا ہیں کئے
اُن پہ سرکارِ دو عالم کے طفیل
رحمتوں کی بارشیں دن رات کر