یا خدا، زخمی قلم، زخمی زباں سجدے میں ہے- ریاض حمد و نعت

یہ زمیں سجدے میں ہے یہ آسماں سجدے میں ہے
عرش کیا، کرسی بھی کیا، یہ لامکاں سجدے میں ہے

ہر طرف تیرے جلالِ پادشاہی کا ظہور
جنتِ ارضی ہی کیا، باغِ جناں سجدے میں ہے

میرے بچے تختیوں پر نام لکھتے ہیں ترا
میری بستی کا ہر اک پیر و جواں سجدے میں ہے

ہے مرے ہر لفظ کے لب پر تری حمد و ثنا
میرے محسوسات کا سارا جہاں سجدے میں ہے

میرے دل کی ایک اک دھڑکن کا ہو سجدہ قبول
میری چشمِ تر میں اشکوں کا دھواں سجدے میں ہے

گردشِ افلاک مصروفِ ثنا ہے یا خدا!
چاند تارے ہی نہیں ہر کہکشاں سجدے میں ہے

دے مہذب دن کی ہر ساعت کو سجدوں کا شعور
نَسْلِ انسانی کا ہر وہم و گماں سجدے میں ہے

حاضرِ دربار ہے روزِ ازل سے روشنی
امن کی ہر فاختہ کا آشیاں سجدے میں ہے

کوفیوں کے قبضے میں ہے آج بھی آبِ فرات
کربلائے عصرِ نو کی داستاں سجدے میں ہے

ہر قدم پر اک نیا سورج مسائل کا ملا
دھوپ کی شدت میں میرا سائباں سجدے میں ہے

دور افق پر ہر کوئی جس کو سمجھتا ہے شفق
در حقیقت آسمانِ زر فشاں سجدے میں ہے

خوشبوئیں ہر دم گلستاں میں ہیں مصروفِ ثنا
جگنوؤں کا، تتلیوں کا کارواں سجدے میں ہے

میرے اندر کے بھی بت خانے کا منظر دیکھئے
ایک پتھر ہی نہیں شہرِ بتاں سجدے میں ہے

آتش و آہن کا طوفاں بھی رکے گا ایک دن؟
یا خدا! زخمی قلم، زخمی زباں سجدے میں ہے

مَیں ادھورا آدمی مفلوج بچپن ہی سے ہوں
یاخدا! لکنت زدہ میری زباں سجدے میں ہے

امتِ مرسلؐ کو ظلم و جبر سے آزاد کر
یاخدا! عَرْضِ امیرِ مرسلاںؐ سجدے میں ہے

میری ہر لغزش سے کرنا درگذر محشر کے دن
یا خدا! برسوں سے عمرِ رائیگاں سجدے میں ہے

ہر ورق میری لغت کا ہے بنا حرفِ سپاس
یہ قلم رہتا ہے جو ماتم کناں سجدے میں ہے

روشنی ارض و سما کی بندگی میں ہے تری
میری پیشانی پہ سجدوں کا نشاں سجدے میں ہے

میری سب محرومیوں کے لب پہ ہے تیری ثنا
میرا ہر آنسو، مری آہ و فغاں سجدے میں ہے

ہو رہا ہے بستی بستی تیری عظمت کا بیاں
قریہ قریہ ہر ترا حکمِ اذاں سجدے میں ہے

ارضِ پاکستاں کی ہر بستی مصلّے کی طرح
ہر نگر، ہر گوٹھ، ہر قریہ، گراں سجدے میں ہے

پربتوں کی چوٹیاں تسبیح پڑھتی ہیں ریاضؔ
میرے دریاؤں کا یہ آبِ رواں سجدے میں ہے

ثلاثی

مضطرب رہتے ہیں آنگن میں ہواؤں کے ہجوم
حسرتِ ناکام ہے ہر پیڑ سے لپٹی ہوئی
میرے احوالِ پریشاں کو بدل میرے خدا!

*