ثنائے ہادیٔ کونین: تلچھٹ ہوں زمانے کی، سیہ کار ہوں آقاؐ- ریاض حمد و نعت

تلچھٹ ہوں زمانے کی، سیہ کار ہوں آقاؐ
محشر میں شفاعت کا طلب گار ہوں آقاؐ

فریاد کناں ہوں درِ عالی پہ ادب سے
صدیوں سے مَیں کچلا ہوا کردار ہوں آقاؐ

گھمبیر مسائل سے چراتا نہیں نظریں
میں عصرِ پریشاں کا قلم کار ہوں آقاؐ

یہ آپؐ کے الطاف کی بارش ہے وگرنہ
کب آپؐ کی رحمت کا سزاوار ہوں آقاؐ

آنکھیں کہ ندامت سے جھکی جاتی ہیں میری
کیا عرض کروں کتنا گنہ گار ہوں آقاؐ

گروی ہے پڑا، عرصے سے، سانسوں کا ذخیرہ
کشکول میں کچھ بھی نہیں، نادار ہوں آقاؐ

یلغار، مجھے، تیز ہوائوں کی گرا دے
مَیں ذاتی مفادات کی دیوار ہوں آقاؐ

ہو زندہ حقائق کی سرِ عام نمائش
ہر ہاتھ میں مسلا ہوا اخبار ہوں آقاؐ

غیروں کی گواہی کی مجھے کیا ہے ضرورت
زنجیر لئے، حاضرِ دربار ہوں آقاؐ

مجرم ہوں عدالت میں کھڑا سوچ رہا ہوں
کیا آج بھی مَیں لائقِ دستار ہوں آقاؐ

دروازے مرے رزق کے کب سے ہیں مقفّل
اک ردی کا کاغذ سرِ بازار ہوں آقاؐ

رہتے ہیں مرے اشک مواجھے میں مؤدب
کس کیف کی برسات میں سرشار ہوں آقاؐ

سکّے بھی غلامی کے عطا کیجئے لاکھوں
زنجیرِ غلامی کا خریدار ہوں آقاؐ

آداب غلامی کے سکھا دے مجھے کوئی
رنجیدہ سا رہتا ہوں، خطا کار ہوں آقاؐ

کتنے ہی جزیروں کو تلاشا ہے قلم نے
مَیں جادۂ تخلیق کا رہوار ہوں آقاؐ

نکلوں گا کسی روز میں اپنے ہی سفر پر
تاریخ کے مَیں گمشدہ آثار ہوں آقاؐ

نوکر ہے ریاضؔ آپؐ کی سب آل کا نوکر
مَیں شامِ غریباں کا عزادار ہوں آقاؐ

*