تاریخِ کائنات کا سب سے بڑا دن- نعت کے تخلیقی زاویے

(ریاض حسین چودھریؒ نے آقائے محتشم ﷺ کے یومِ ولادت کے حوالے سے 500 بنود پر مشتمل طویل نعتیہ نظم ’’طلوع فجر‘‘کہی جو جنوری 2014ء میں شائع ہوئی۔ ہر بند 12 مصرعوں پر مشتمل ہے۔ اس کا پیش لفظ محترم ڈاکٹر اسحٰق قریشی صاحب نے لکھا ہے جس میں وہ ریاض کو ’’نقشِ حسّان ‘‘ قرار دیتے ہیں۔ ریاض نے اس لازوال کتاب کا تعارف ’’تاریخِ کائنات کا سب سے بڑا دن‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے۔)

12 ربیع الاول: تاریخِ کائنات کا سب سے بڑا دن ہے۔ یہ دن خالقِ کائنات کے سب سے بڑے بندے اور محبوب رسول ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری کا دن ہے۔ شبِ میلاد کتابِ ارتقا کا دیباچہ ہے۔ صناعِ ازل نے آقائے محتشم ﷺ کے سرِ اقدس پر عظمتوں اور رفعتوںکا تاج سجایا، پرچمِ شفاعت عطا کیا، سیدہ آمنہؓ کے لال ﷺ کو قبائے رحمت سے نوازا اور نبی مکرم ﷺ کو خاتمیت کی خلعتِ فاخرہ سے سرفراز فرمایا۔ محبوب ﷺ اس آئینہ خانے کے ہر عکس کو وجود تیرے ؐ ہی وجودِ مسعود کے تصدق میں ملا ہے۔ تجھے پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو یہ چاند ہوتا نہ ستارے، زمین ہوتی نہ آسمان؛ دامنِ ارض و سماوات میں کچھ بھی نہ ہوتا، بلکہ خود ارض و سماوات بھی نہ ہوتے؛ محبوب ﷺ جو کچھ بھی ہے وہ تیرے ہی قدموں کی خیرات ہے۔

خدائے بزرگ و برتر اپنے ملائکہ کے ساتھ نبیِ رحمت پر درود بھیجتا ہے اور ایمان والوں کو حکم دیتا ہے کہ تم بھی میرے نبی ﷺ پر خوب خوب درود و سلام بھیجا کرو۔ ربِّ کائنات نے رسولِ کائنات ﷺ کو مہمانِ عرش ہونے کی فضیلت سے نوازا۔ زمین کے سارے خزانوں کی کنجیاں اپنے محبوبs کو عطا کیں، قیامت کا دن حضور رحمتِ عالم ﷺ کی عظمتوں کے ظہور کا دن ہے۔ اللہ رب العزت اپنے حبیب ﷺ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے گا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیؐ اور رسولؐ اپنی امتوں کے ساتھ تاجدارِ کائنات ﷺ کے خیمۂ عافیت کی تلاش میں نکلیں گے، خورشیدِ قیامت سوا نیزے پر آگ برسا رہا ہوگا، نفسا نفسی کا عالم ہوگا، شافعِ محشر ﷺ حوضِ کوثر پر پیاسوں کو پانی پلارہے ہوں گے، رحمتِ حضور ﷺ ہم گنہ گاروں کی تلاش میں ہوگی، سب سے پہلے آقا حضور ﷺ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ سب سے پہلییتیم عبداللہ جنت الفردوس میں داخل ہوں گے، 12 ربیع الاول کو ظہورِ مصطفی ﷺ نہ ہوتا تو یہ سب کچھ بھی نہ ہوتا۔

اللہ اکبر، اللہ سب سے بڑا ہے۔ حضور ﷺ آپؐ آئے تو گلشنِ ہستی میں بہار آگئی، بنجر زمینوں کی تشنگی کا مداوا ہوا اور شاخِ آرزو پر کلیاں مسکرانے لگیں؛ حضور ﷺ آپؐ آئے تو کرۂ ارضی پر عدل کا نفاذ عمل میں آیا، حقوق انسانی بحال ہوئے، آدابِ زندگی ترتیب دیئے گئے، انسان کی خود ساختہ خدائی کا خاتمہ ہوا۔ ظلمتِ شب نے رختِ سفر باندھا اور دخترِ حوا کے پیروں کی زنجیریںکٹیں؛ حضور ﷺ آپؐ آئے تو اُفقِ عالم پر امنِ دائمی کی بشارتیں تحریر ہوئیں، وسائلِ قدرت پر شخصی اجارہ داریوں کے پڑے قفل ٹوٹے، آمریت کی تدفین عمل میں آئی اور قدم قدم پر جمہوری شعور کی آبیاری کا اہتمام ہونے لگا۔ نمرودیت اور فرعونیت کے قصرِ انا زمیں بوس ہوئے؛ حضور ﷺ آپؐ آئے تو استحصال کی ہر شکل پر ضربِ کاری پڑی، انسان کی تذلیل کا ہر خیمہ جلادیا گیا، ریاستی دہشت گردی کو رزق زمین بنادیا گیا، خوفِ خدا سے جبینیں منور ہوئیں، ذہنوں میں تعمیر ہونے والے عقوبت خانے مسمار ہوئے، فتنہ و شر کے مراکز بند کردیئے گئے، خودنمائی اور خودستائی کی آمرانہ خصلتوں کو اپنے ہی ملبے تلے دفن کردیا گیا، ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر ٹھہرایا گیا؛ حضور ﷺ آپؐ آئے تو معبودانِ باطلہ کی پرستش کا دور اختتام پذیر ہوا، توہم پرستی کو ذہنِ انسانی سے کھرچ ڈالا گیا۔ جبینوں کو سجدوں کا نور عطا ہوا۔ فکرو نظر کو خدائے وحدہ لاشریک کی بندگی کے شعور سے ہمکنار کیا گیا اور ہر طرف توحید کے پرچم لہرانے لگے؛ حضور ﷺ آپؐ آئے تو تکبر اور غرور کی مشعلیں ہمیشہ کے لیے بجھادی گئیں، قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا گیا اور جبرِ مسلسل کی آہنی دیوار کو نیست و نابود کردیا گیا؛ حضور ﷺ آپ آئے تو انفرادی اور اجتماعی سطح پر خود احتسابی کا عمل معمولاتِ روز و شب کا عنوان بنا، نسلی تفاخر کا طلسم ٹوٹا، رنگ و نسل کے بت پاش پاش ہوئے، اللہ کا دین تمام ادیانِ باطلہ پر غالب آکر رہا اور اخلاقی قدروں پر مشتمل نیو ورلڈ آرڈر مرتب ہوا۔ ایوانِ کسریٰ کے چودہ کنگرے گِرگئے، آتش کدۂ فارس بجھ گیا، خوشبوئوں کو نئے پیرہن عطا ہوئے، شرفِ انسانی بحال ہوا، آپ ﷺ کی تشریف آوری ہر شعبۂ زندگی میں انقلاب آفریں تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوئی:

نسلِ آدم نیند سے بیدار ہوجائے ریاضؔ
دامنِ ارض و سما جاگے کہ آئے ہیں حضورؐ

12 ربیع الاول تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنے محاسبے کا دن ہے۔ عظمتِ رفتہ کی بازیابی کے سفر پر نکلنے کا دن ہے۔ اپنی ثقافتی اکائی کو تحفظ کی ردا دینے کا دن ہے۔ آج کا دن محبتیں تقسیم کرنے کا دن ہے، ناراض دوستوں کو گلے سے لگانے کا دن ہے، فرقہ واریت کے خیمۂ بے اماں کو نذرِ آتش کرنے کا دن ہے، از سرِ نو مکینِ گنبدِ خضرا سے رشتۂ غلامی کو استوار کرنے کا دن ہے۔

قدرت نے روشنی کے قلم سے لکھا ہے دن
کتنا عظیم ارض و سما کو ملا ہے دن

تاریخِ کائنات کی سب سے بڑی ہے رات
تاریخِ کائنات کا سب سے بڑا ہے دن

پاکستان قریۂ عشق محمدؐ ہے، ہم غلامانِ رسولؐ ہاشمی کا حصارِ آہنی ہے۔ پاکستان عالمِ اسلام کی پہلی دفاعی لائن ہے۔ یومِ میلاد وطنِ عزیز کی سلامتی کے لیے بارگاہِ خداوندی میں التجائوں اور دعائوں کا دن ہے، امتِ مسلمہ پر آنے والی ہر خراش پر مرہم رکھنے کا دن ہے، یہ دن پوری کائنات کے لیے عیدِ مسّرت ہے۔

12 ربیع الاول کی دلنواز ساعتوں کو ہم غلاموں کا سلام پہنچے۔