قطعات- کتابِ التجا (2018)

قطعہ

مَیں اک زخمی پرندہ ہوں، مجھے اڑنے کی طاقت دے
چمن میں آشیاں کے چند تنکے بھی نہیں ملتے
کوئی تتلی نہیں اڑتی، کوئی جگنو نہیں اڑتا
گلابِ سرخ اب شاخِ برہنہ پر نہیں کھلتے

قطعہ

نقشِ قدم حضورؐ کے ہیں روشنی کے پھول
نقشِ قدم حضورؐ کے مژدہ بہار کا
نقشِ قدم حضورؐ کے دستارِ زندگی
سرمایہ ہیں ریاضؔ یہ مدحت نگار کا

قطعہ

مَیں اک زخمی پرندہ ہوں، مجھے اڑنے کی طاقت دے
چمن میں آشیاں کے چند تنکے بھی نہیں ملتے
کوئی تتلی نہیں اڑتی، کوئی جگنو نہیں اڑتا
گلابِ سرخ اب شاخِ برہنہ پر نہیں کھلتے

قطعہ

شعورِ بندگی اس کو عطا کرنا مرے مالک
نویدِ کامرانی اس کے ہاتھوں پر رقم کرنا
اسے اترن ملے طیبہ کے بچوں کی سرِ محفل
مرے اﷲ، مرے بیٹے مُدَثِرْ پر کرم کرنا

قطعہ

دعا ہے یا خدا! تجھ سے، رسولِ پاکؐ کے صدقے
مری بیٹی شفق کا لکھ مقدر ماہتابوں سے
اجالے ہی اجالے اس کے آنگن کی بنیں زینت
تُو اس کے دامنِ صد رنگ کو بھر دے گلابوں سے

قطعہ

نور کی کرنیں بکھیرے چاند تاروں کا ہجوم
جھوم کر ہر سمت سے آتی رہے بادِ خنک
میرے پاکستان کے کوہ و دمن پر یا خدا!
آسماں سے پھول برساتی رہے بادِ خنک

قطعہ

اپنے بندوں کو تُو دے اپنے تحفظ کی ردا
اپنے بندوں کے مقدّر کو ستاروں سے اجال
اپنے بندوں پر کرم کی بارشیں دن رات کر
اپنے بندوں کو حصارِ ظلمتِ شب سے نکال